30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاتجوز ھبۃ مالیس بموجود وقت العقد بان وھب مایثمر نخلہ العام وما تلداغنامہ السنۃ ونحوذٰلك بخلاف الوصیۃ والفرق ان الھبۃ تملیك للحال وتملیك المعدوم محال والوصیۃ تملیك مضاف الی مابعد الموت والاضافۃ لاتمنع جوازھا و لاسبیل لتصحیحہ بالاضافۃ الی مابعد زمان الحدوث لان التملیك بالھبۃ ممّالایحتمل الاضافۃ الی الوقت فبطل [1]اھ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جوشیئ عقد کے وقت موجودنہ ہو اس کا ہبہ جائزنہیں اس کی صورت یہ کہ کوئی شخص ان پھلوں کاہبہ کرے جو اس سال اس کے درختوں پر لگیں گے یااپنی بکریوں کے ان بچوں کاہبہ کرے جو اس سال وہ جنیں گی اور اسی کی مثل دوسری اشیاء بخلاف وصیت کے،دونوں میں فرق یہ ہے کہ ہبہ کے لئے تملیك ہے اورمعدوم کی تملیك محال ہے اوروصیت ایسی تملیك ہے جو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے اور منسوب ہونا وصیت کے جواز کومنع نہیں کرتا،زمانہ حدوث کے مابعد کی طرف نسبت کرکے ہبہ کو صحیح قراردینے کاراستہ نہیں کیونکہ ہبہ میں تملیك وقت کی طرف نسبت کا احتمال نہیں رکھتی لہٰذا وہ باطل ہےاھ،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۸۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب مفتی عبدالقادرصاحب مفتی کچہری دیوانی ریاست ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
مرہونہ پربعد عقدرہن مرتہن کاقبضہ شرعی ہوگیا،اس کے بعد بطورعاریت یااجارہ یا غصب مرہونہ راہن کے قبضہ میں پہنچ گیا تو علمائے محققین سے سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں عقد رہن باطل ہوجائے گا یاوہ علٰی حالہٖ باقی رہے گا اورکیامرتہن کو بربنائے رہن مذکوراسترداد مرہونہ کااستحقاق شرعًا حاصل ہے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
فی الواقع صورِ مذکورہ میں عقدرہن باطل نہ ہوگا اورمرتہن کو استرداد مرہون کاحق رہے گا،عاریت وغصب میں توظاہرکہ منافی رہن نہیں عقد اجارہ البتہ منافی رہن ہے ولہٰذا اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع