30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاجارۃ اذاجازت لایبقی الرھن ضرورۃ۔[1] |
اجارہ جب جائز ہوجائے توضروری ہے کہ وہ رہن باقی نہ رہے۔(ت) |
(۳)بے شك زیادت فی الدین ناجائزہے،یہی مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے،اوراسی پرمتون و شروح،اوریہی من حیث الذیل اقوٰی،کما یظھر بمراجعۃ البدائع والتبیین وغیرھا(جیساکہ بدائع اورتبیین وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہرہوتا ہے۔ت)اوربیشك فتوٰی ہمیشہ قول امام پرہے مگربضرورت،اس بارے میں ہمارا مبسوط رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوٰی مطلقًا علٰی قول الامام طبع ہوچکاہے،بکرکاقول کہ معاملات میں اکثر فتوٰی قول امام ابویوسف پرہوتا ہے غلط ہے یہ صرف مسائل متعلقہ وقف وقضا میں کہاجاتاہے اوروہ بھی کوئی ضابطہ نہیں کہ بے تصحیح صریح اس سے خلاف قول امام وخلاف متون وشروح تصحیح کرلیں مگریہ بحث یہاں کوئی نتیجہ خیزنہیں،نہ اس کی اصلًا حاجت،جبکہ ہم دلائل قاہرہ سے ثابت کرآئے کہ یہ رہن خودہی باطل محض ہے،پھربحث زیادت کی کیاگنجائش!
(۴)چارہزار نوسوپینتالیس روپے آٹھ آنے کہ بکرکے کرایہ داروں سے وصول کئے وہ ضرور حق زیدہیں بکرکا ان میں کوئی حبّہ نہیں کہ یہ اجارہ راہن باذن مرتہن ہے یاعلی التنزل اجارہ مرتہن باذن راہن مگرہم کتب معتمدہ بدائع امام ملك العلماء وفتاوٰی امام قاضی خان وفتاوٰی عالمگیریہ سے ثابت کرآئے کہ دونوں صورتوں میں اجرملك راہن ہے فقط فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں کرایہ داروں سے کرایہ وصول کرنے کا حق بھی راہن ہی کو ہے،اوردوسری صورت میں مرتہن کو کہ وہی عاقد ہے وہی وصول کرے اورراہن کو دے دے خود اس میں سے کچھ نہیں لے سکتا،لہٰذا بکرپرلازم ہے کہ اپنا قرض پندرہ سومجراکرکے تین ہزارچارسوپینتالیس روپے آٹھ آنے زیدکو ادا کرے،دستاویز میں زیدکالکھنا کہ جو منافع مرتہن وصول کرے حق مرتہن ہے باطل وبے اثرہے کہ تغییرحکم شرع ہے،اوراگریہ تاویل کی جائے کہ اگرچہ واقع میں عندالشرع وہ حق زید ہے مگرزید کایہ لکھنا اپنی طرف سے بکر کو ان منافع کا ہبہ ہے جب بھی باطل ہے کہ منافع بوقت تحریرمعدوم تھے اورمعدوم کاہبہ باطل۔بدائع میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع