30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توبعد میں جو ساعت آئی اس میں نیاعقد اجارہ ہوا یہ اگرمرتہن کی طرف سے باذن راہن ہے تو بلاشبہہ مرتہن نے جدیداجارہ کیا اور اس کے لئے دکانداروں کو جدیدہوناکیاضرور عقدنیاہونا چاہئے وہ بے شك حاصل۔کیااگرمرتہن باذن راہن اسی مستاجر کو دے جسے پہلے راہن دے چکاتھا تو رہن باقی رہے گا۔دوسرے کودے توجاتارہے گا اس کاقائل نہ ہوگا مگرسخت جاہل،مرتہن کے عقد اجارہ باذن راہن کوتمام کتابوں نے مبطل رہن رکھا ہے نہ کہ صرف بحال تبدیل مستاجر۔رہن پراجارہ نافذہ کاورود ہی اسے باطل کرتا ہے کہ دوام حق حبس جو شرط رہن ہے زائل ہوتاہے۔تعین مستأجر کو اس میں کیادخل۔بدائع میں ہے:
|
الاجارۃ تبطل الرھن۔[1] |
اجارہ رہن کو باطل کردیتاہے۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
اخبراﷲ سبحانہ وتعالٰی المرھون مقبوض فیقتضی کونہ مقبوضا مادام مرھونا۔[2] |
اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے خبردی ہے کہ مرہون مقبوض ہو۔یہ خبر اس کے مقبوض ہونے کا تقاضاکرتی ہے جب تك وہ مرھون ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
الرھن فی اللغۃ عبارۃعن الحبس قال اﷲ تعالٰی عزّوجلّ" کُلُّ امْرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾"ای حبیس فیقتضی ان یکون المرھون محبوسا مادام مرھونا و لولم یثبت ملك الحبس علی الدوام لم یکن محبوسا علی الدوام فلم یکن مرھونا۔[3] |
رہن لغت میں حبس کانام ہے،اﷲ تبارك وتعالٰی نے فرمایا: ہرشخص اپنے کئے میں مرہون یعنی محبوس ہے،اس کاتقاضایہ ہے کہ مرہون جب تك مرہون ہے محبوس ہو اور اگرملك حبس دائمی طورپر ثابت نہ ہوئی تو وہ دائمی طورپر محبوس نہ ہوا،چنانچہ وہ مرہون نہ ہوا۔(ت) |
اسی سے گزرا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع