30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وصار العقد مضافا غیر منعقد للحال فی حق المنفعۃ لأن اقصی مایتصور العقد علی المنفعۃ ان یکون العقد مضافا الی وقت حدوثھا فینعقد العقد فی کل جزءٍ من المنفعۃ علٰی حسب وجودھا شیئًا فشیئًا وھو معنٰی قولنا ان عقد الاجارۃ فی حکم عقود متفرقۃ یتجدد انعقادھا علٰی حسب حدوث المنافع وانما قامت العین مقام المنفعۃ تصحیحا للعقد فی حق الانعقاد والتسلیم ضرورۃ عدم تصورھما فی المنفعۃ ولاضرورۃ فیحق الملك فی البدل اذا ماثبت للضرورۃ یثبت بقدرھا فلا یظھر فی حق ملك البدل کما لا یظھر فی حق ملك المنفعۃ فیکون العقد مضافا الٰی وقت حدوثھا غیر منعقد للحال فی حقھما[1]اھ وانما سقناہ لما فیہ من الفوائد ولایکفینا بعضہ کما لایخفٰی۔ |
اور منفعت کے حق میں کہ عقد مضاف ہوگا فی الحال منعقدنہیں ہوگا کیونکہ منفعت پرعقد میں انتہائی تصوریہ ہے کہ عقدمنفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہو۔چنانچہ عقد منفعت کی ہرجز میں اس کے تدریجًا موجود ہونے کے مطابق منعقدہوگا۔اوریہی معنی ہے ہمارے اس قول کاکہ"اجارہ کا عقد متفرق عقود کے حکم میں ہے جن کا انعقاد منافع کے پیداہونے کے مطابق متجدد ہوتا رہتاہے۔ انعقاد اورسپردگی کے حق میں ان دونوں کاتصور معدوم ہے اور بدل کے اندرملك کے حق میں کوئی مجبوری نہیں اس لئے کہ جس شے کاثبوت ضرورت کی وجہ سے ہو اس کاثبوت بقدر ضرورت ہوتاہے،چنانچہ وہ مِلك بدل کے حق میں ظاہر نہیں ہوگا جیساکہ مِلك منفعت کے حق میں ظاہرنہیں ہوتا،وہ عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوگا اوران دونوں کے حق میں فی الحال منعقدنہیں ہوگا الخ بے شك ہم نے اس عبارت کو ان فوائد کی وجہ سے ذکرکیا ہے جو اس میں موجودہیں ورنہ ہمیں اس میں سے بعض عبارت کافی ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع