30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معقودا علیہ مبتدأ[1]۔ |
نئے سرے سے معقود علیہ بنتی ہے(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
الاجارۃ تنعقد ساعۃ فساعۃ حسب حدوث المنفعۃ۔[2] |
اجارہ وقتًا فوقتًا منفعت کے پیداہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
(جواز العقد لیس باعتبار أن المعدوم جعل موجودا حکما وکیف یقال ذٰلك والموجود من المنفعۃ لایقبل العقد لانہ عرض لایبقی زمانین فلایتصور فیہ التسلیم بحکم العقد والقدرۃ علی التسلیم شرط لجواز العقد وما لایتصور فیہ التسلیم لایکون محلا للعقد بل باعتبار ان العین التی ھی سب وجود المنفعۃ اقیمت مقام المنفعۃ فی حق صحۃ الایجاب و القبول وفی حق وجوب التسلیم اذ العین ھی التی یمکن تسلیمھا دون العرض فانعقد فی حقھا فی الحال فوجب علیہ تسلیمھا |
اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبارسے نہیں کہ معدوم کو حکمی طور پر موجود بنادیاگیاہے،اور یہ کیسے کہاجاسکتاہے حالانکہ جو منفعت موجود ہو وہ عقد کوقبول نہیں کرتی اس لئے کہ وہ عرض ہے جودوزمانوں میں باقی نہیں رہتی،لہٰذا اس میں عقد کے حکم سے سپردگی متصورنہیں جبکہ سپردگی پرقادر ہونا عقد کے لئے شرط جواز ہے،اور جس میں سپردگی متصورنہیں وہ عقد کا محل نہیں ہوسکتابلکہ اجارہ کے عقد کاجواز اس اعتبار سے ہے کہ عین شیئ جو کہ وجود منفعت کا سبب ہے اس کو ایجاب و قبول کی صحت اورسپردگی کے وجوب کے حق میں منفعت کے قائمقام کردیاگیاہے اس لئے کہ اس عین ہی کی سپردگی ممکن ہے نہ کہ عرض کی،لہٰذا اس عین کے حق میں فی الحال عقد منعقد ہوجائے گا اورآجر پر اس کی سپردگی واجب ہوگی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع