30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنت منہ وابن من زوجھا الاول ثم مات ھذا الزوج ولم یرثہ الابنتہ فلا بدان یزید فی الاقرار بارثھما عن ھٰذا المورث۔ |
جس کے ورثاء میں اس کاخاوند اور اسی خاوند سے ایك بیٹی اوراپنے پہلے خاوند سے ایك بیٹا ہے پھر یہ خاوند فوت ہوگیا جس کاوارث سوائے اس کی بیٹی کے اور کوئی نہیں لہٰذا مقرکے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اقرار میں اسی مورث سے ان دونوں کے وارث بننے کی قید کااضافہ کرے۔(ت) |
ثانیًا: بالفرض زیدقبضہ بکرکامقر ہے مگربکر خوداپنے قبضہ سے منکرہے کہ تسلیم کرتاہے کہ اب تك قبضہ مستاجران مستمر ہے اورمقرلہ جب اقرار کی تکذیب کرے اقرارباطل ہوجاتاہے۔ اشباہ میں ہے:
|
المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ الخ[1] واستثنٰی سبعۃ اشیاء لیس ھذا منھا۔ |
مقِرلہ جب مقرکو جھٹلادے تو اس کااقرار باطل ہوجائے گا الخ صاحب اشباہ نے سات چیزوں کا استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت) |
اوریہیں سے ظاہرہواکہ بکر کاکہنا کہ حقوق سے خالی کرکے مرتہن کے حوالے کردیا صریح غلط ہے۔
(۲)بلاشبہہ جب باتفاق فریقین یقینا ثابت کہ دکان ومکان پہلے سے کرایہ پرہیں اوریہ کہ راہن ومرتہن دونوں اس اجارے اور اس کی بقا پرراضی،مرتہن اب تك اس کرایہ سے متمتع ہوتارہا توبعد رہن اگریہ اجارہ ازجانب راہن ہے تومرتہن کا اذن ہے اور ازجانبِ مرتہن فرض کیجئے تو راہن کا اذن ہے،اورہم بدائع ملك العلماء سے لکھ آئے کہ دونوں صورتوں میں رہن باطل ہے، نیزفتاوٰی امام قاضی خان وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرھامیں ہے:
|
ان آجر المرتھن من اجنبی بامر الراھن یخرج من الرھن وتکون الاجرۃ للراھن،وان آجرہ الراھن من اجنبی |
مرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شیئ کسی اجنبی کو اجارہ پردے دی وہ رہن سے نکل جائے گی اوراُجرت راہن کے لئے ہوگی،اوراگرراہن مرتہن کے حکم سے اجنبی کو اجرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع