30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التاتارخانیۃ وعلٰی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السھام لوارث وھو ازید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالا شرعا مثلا لومات عن ابن وبنت فاقر الابن أن الترکۃ بینھما نصفان بالسویۃ فالاقرار باطل لما ذکرنا[1]اھ وقیدہ السید العلامۃ زیرك زادہ فی حاشیتہ علی الاشباہ کما رأیت فیھا و نقلہ السید العلامۃ الحموی فی الغمز بلفظہ قیل و اقرہ بان یزید فی اقرارہ بالارث،قال اذ یتصوران یکون الترکۃ بینھما نصفین بالوصیۃ مع الاجازۃ او غیرھا من وجوہ التملیك کما ھوظاھر[2]اھ اقول: یمکن التنصیف بینھما بالارث ایضا کما اذا ماتت عن زوج و |
نہیں جیساکہ تتارخانیہ میں ہے۔اسی بنیاد پرمیں نے فتوٰی دیاہے کہ کسی انسان کاکسی وارث کے لئے اس قدرسہام کا اقرارکرناباطل ہے جو اس کے شرعی مقررحصے سے زائد ہو کیونکہ یہ شرع کی روسے محال ہے مثلًا کوئی شخص ایك بیٹا اور ایك بیٹی چھوڑ کر فوت ہوا بیٹے نے اقرار کیاکہ ترکہ ان دونوں کے درمیان برابری کے طورپرنصف نصف ہے تویہ اقراراس دلیل کی وجہ سے باطل ہوگا جس کو ہم ذکرکرچکے ہیں الخ سید علامہ زیرك زادہ نے اشباہ پراپنے حاشیہ میں اس کو مقید کیا جیساکہ میں نے اس کے حاشیہ میں دیکھا اور سیدعلامہ حموی نے غمز میں لفظ"قیل"کے ساتھ نقل کرکے اس کو برقرار رکھامقید بایں صورت کیاکہ مُقِراپنے اقرار میں میراث کاذکر بڑھائے کیونکہ یہ بات متصورہے کہ ترکہ ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان وصیت کے سبب سے نصف نصف ہوجائے گا وصیت کی اجازت کے ساتھ یا اس کے علاوہ دیگروجوہ تملیك کے ساتھ جیساکہ ظاہرہے الخ میں کہتاہوں ان دونوں کے درمیان میراث کے اعتبار سے بھی ترکہ کانصف نصف ہوناممکن ہے جیسے کوئی خاتون فوت ہوگئی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع