30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وعلٰی ھذا یخرج مااذا وھب دارا فیھا متاع الواھب و سلّم الدار الیہ اوسلم الدار مع مافیھا من المتاع فانہ لایجوز،لان الفراغ شرط صحۃ التسلیم و القبض ولم یوجد۔[1] |
اور اسی سے اس صورت کاحکم ظاہرہوجاتا ہے کہ جب کسی نے ایساگھر ہبہ کیا جس میں واہب کاکچھ سامان موجودہے اور اس نے وہ گھر موہوب لہ کے حوالے کردیا یا اس نے وہ گھر اس میں پڑے ہوئے اپنے سامان سمیت موہوب لہ کے حوالے کردیا تو یہ ہبہ جائزنہیں ہوگا کیونکہ موہوب کو خالی کرنا سپردگی اورقبضہ کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گی۔(ت) |
دستاویز میں کہ بکرکوقابض کردینا مسطور،یقینا اس سے یہی محاورہ جہال منظور،توبکرکااس سے استدلال ہباء منثور،اوراگرفرض کیجئے کہ اسے شرط قبضہ ہی پرمحمول رکھیں تو اب دو۲ وجہ سے مردودہے:
اوّلا: جب یقینا معلوم کہ کرایہ داروں سے تخلیہ کرکے قبضہ کسی وقت نہ دلایا پہلے سے اب تك کرایہ داروں کاقبضہ مستمرہے اوراوپربیان ہوچکاکہ شے واحد پروقت واحد میں دومختلف قبضے محال،تو یہ اقرار بالمحال ہوا،اوراقرار بالمحال باطل ونامسموع ہے مثلًا بھائی اقرار کرے اوررجسٹری کرادے کہ متروکہ پدری اس میں اور اس کی بہن میں بذریعہ میراث پدر نصف نصف ہے یہ اقرارمردودہے بہن اس سے استدلال نہیں کرسکتی کہ وہ شرعًا محال ہے لہٰذاثلث سے زیادہ نہ پائے گی۔یوں ہی یہاں باوصف استمرار قبضہ مستاجر ان قبضہ مرتہن شرعًا محال ہے،لہٰذا اقرار واجب الابطال ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
|
الاقرار بشیئ محال باطل کما لواقرلہ بارش یدہ التی قطعھا خمسمائۃ درھم ویداہ صحیحتان لم یلزمہ شیئ کما فی |
محال شیئ کااقرار باطل ہے جیسے کسی کے لئے پانچسوروپے دیت کااقرارکیااس کے ہاتھ کے بدلے میں جو مقِرنے کاٹاہے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ سلامت ہیں تومقِر پرکچھ بھی لازم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع