30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاجت جانتے ہیں زید اگراپنا مکان جس میں اس کامال اسباب رکھاہواہے عمروکوہبہ کرے اور کنجی اسے دے دے وہ کہیں گے قبضہ دے دیا حالانکہ ہرگزشرعًا قبضہ نہ ہوا کہ تخلیہ نہ ہوا۔بدائع میں ہے:
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ ) فی البدائع کما تری وکذا ذکرہ فی الرھن من العقود الدریۃ انہ الصحیح،اقول:والہدایۃمع مشیہ علٰی انہ شرط اللزوم کلامہ فی الدلائل فی مسئلۃ لایجوز رھن المشاع وغیرھا یدل علٰی انہ شرط الانعقاد فتدبرہ و راجع العنایۃ ونتائج الافکار وکذا التنویر مع اتباعہ للہدایۃ قال لایصح رھن المشاع[1] قال فی الدر الصحیح انہ فاسد[2]اھ تامل وراجع ما علقنا علٰی ردالمحتار ویستفاد من العنایۃ ان معنی شرط الجواز عند قائلیہ ان الرھن باطل ان لم یقبض فاخترناہ لما علمت لہ من القوۃ ۱۲منہ غفرلہ۔ |
اوراسی پربدائع میں جزم کیاجیساکہ تودیکھ رہا ہے،اوریونہی عقود الدریہ کی کتاب الرھن میں ذکرکیا کہ بے شك وہ صحیح ہے۔میں کہتاہوں ہدایہ کی اس روش کے باوجود کہ قبضہ شرط لزوم ہے رھن مشاع وغیرہ کے عدم جواز پردلائل کے ضمن میں صاحب ہدایہ کاکلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبضہ شرط انعقاد ہے۔پس اس میں غورکر،اورعنایہ اورنتائج الافکار کی طرف رجوع کر۔یونہی تنویرمیں ہدایہ کی اتباع کرتے ہوئے کہاکہ مشاع کارہن صحیح نہیں۔درمیں کہاصحیح یہ ہے کہ وہ فاسد ہے الخ غور کر،اور ردالمحتار پرہماری تعلیق کی طرف رجوع کر۔عنایہ سے مستفاد ہے کہ شرط جواز کامعنی اس کے قائلین کے نزدیك یہ ہے کہ اگرمرہون پر قبضہ نہیں ہوا تو رہن باطل ہے۔چنانچہ ہم نے اسی کواختیار کیا ہے جیسا کہ تو اس کی قوت کوجان چکاہے ۱۲منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع