30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باذن الراھن اواستاجرہ المرتھن۔[1] |
سے کسی اجنبی کواجارہ پر دے دی یامرتہن خود اس کو اس اجرت پرلے لے۔(ت) |
یہاں کہ فریقین کواقرارہے کہ دکان ومکان رہن سے پہلے سے منجانب زیدکرائے پرہیں اور جب سے اب تك برابرقبضہ کرایہ داران میں ہیں کبھی ان سے خالی نہ کرائی گئیں،توتخلیہ کہ شرط رہن تھا کبھی نہ ہوا اوررہن سرے سے ناجائزوناتمام رہاعــــــہ۔
عوام عمومًا اورآج کل کے قانون دان خصوصًا نِرے زبانی یاکاغذ کے تلفظ کو قبضہ کہتے اورسمجھتے ہیں نہ وہ تخلیہ کے معنی سے آگاہ ہیں نہ اس کی
|
عــــــہ:مشی فی الہدایۃ والملتقی والتنویر وغیرھا علی ان القبض شرط اللزوم فلایتم الرھن [2] الا بہ،قال فی العنایۃ وھو اختیار شیخ الاسلام وھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الا مقبوضا ومثلہ فی کافی الحاکم الشہید ومختصر الطحاوی والکرخی[3]اھ قال الکرخی انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد و الحسن بن زیاد وصححہ فی الذخیرۃ قھستانی، و المجتبی درمختار،والمحیط ھندیۃ وبہ جزم |
ہدایہ،ملتقی اورتنویروغیرہ میں یہ روش اختیارکی ہے کہ رہن میں مرہون پرقبضہ کرناعقد کے لازم ہونے کے لئے شرط ہے۔چنانچہ اس کےبغیرعقد تام نہیں ہوتا۔عنایہ میں کہا اور وہی شیخ الاسلام کامختارہے اور وہ عام مشائخ کی روایت کے مخالف ہے۔امام محمدنے فرمایا کہ مرہون پرقبضہ ہوئے بغیر رہن جائزنہیں ہوتا اور اسی کی مثل حاکم شہید کی کافی اورامام طحاوی کی مختصر اورامام کرخی کی مختصر میں ہے الخ کرخی نے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہ،امام ابویوسف،امام محمد اورحسن بن زیاد کاقول ہے،اس کوذخیرہ میں صحیح قراردیا (قہستانی)اور مجتبٰی میں اس کو صحیح قراردیا(درمختار)اورمحیط میں اس کو صحیح قرار دیا (ہندیہ) (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع