30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دینامرتہن کاباذن راہن مبطل ہوتاہے یہاں اجارہ دینا مرتہن کاثابت نہیں کیونکہ اس نے دکانات پرنئے دکانداروں کونہیں بٹھایا۔
(۳)زیادتی فی الدین امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیك جائزہے اورمعاملات میں اکثر فتوٰی انہیں کے قول پر ہوتا ہے۔دریافت طلب امریہ ہے کہ شرعًا عذرات مندرجہ بالابکرکے صحیح ہیں یا اقوال زیدکے صحیح ہیں ہرسوال کاجواب بالتفصیل نمبروار بحوالہ کتب فقہ عنایت ہو،بیّنوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور روزِحساب اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عذرات زید صحیح ومسموع اورشبہات بکر باطل ومدفوع ہیں۔
(۱)رہن اوریہ اجارہ تو دو عقد ہیں جن کا حکم قبضہ کادست نگر،رہن بے قبضہ باطل اوراجارہ بے قبضہ نفاذ سے عاطل۔بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
|
القبض شرط جواز الرھن لقولہ سبحٰنہ وتعالٰی "][ô" وصف سبحٰنہ وتعالٰی الرھن بکونہ مقبوضا فیقتضی ان یکون القبض فیہ شرطا ولانہ عقد تبرع للحال فلایفیدالحکم بنفسہ کسائر التبرعات۔[1] |
جواز رہن کے لئے قبضہ شرط ہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ"تورہن ہو قبضہ میں دیاہوا"اﷲ سبحانہ وتعالٰی نے رہن کو اس وصف کے ساتھ موصوف فرمایاکہ وہ مقبوض ہو۔یہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ رہن پرقبضہ شرط ہواوراس لئے بھی رہن حال کے لئے عقدتبرع ہے توباقی تبرعات کی طرح باعتباراپنی ذات کے حکم کافائدہ نہیں دیتا۔(ت) |
اسی میں شرائط نفاذ اجارہ میں ہے:
|
الحکم فی الاجارۃ المطلقۃ لایثبت بنفس العقد عندنا لان العقد فی حق الحکم ینعقد علی حسب حدوث المنفعۃ فکان العقد فی حق الحکم مضافا |
اجارہ مطلقہ میں ہمارے نزدیك نفس عقد سے حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حکم کے حق میں عقد اجارہ منفعت کے پیدا ہونے کے مطابق منعقد ہوتا ہے۔چنانچہ حکم کے حق میں عقد منفعت کے پیداہونے کے وقت کی طرف منسوب ہوتاہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع