30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہ مثل ذیلی اور اس کا اس زمین سے انتفاع نہیں مگر بربنائے قرض اورقرض کے ذریعہ سے جو نفع حاصل کیاجائے جائزنہیں۔ حدیث میں ہے:
|
کل قرض جر منفعۃ فھو ربا[1]۔ |
جوقرض نفع لائے وہ سُودہے۔(ت) |
لگان جومرتہن نے گورنمنٹ کواداکی خود کاشت کی اوراس کے بدلے دی نہ راہن کی طرف سے،تو اس کاجس طرح راہن سے مطالبہ کوئی وجہ نہیں رکھتا،ہاں اگر راہن کہے کہ میرے ذمہ جولگان ہے وہ اداکیا کراب وہ اس بناپراداکرتاہے تو اس کامطالبہ راہن سے کرسکتاتھا اسی طرح جب کہ اس نے زمین میں کاشت کی توجوپیداوار ہے اس کایہی مالك ہے اگرچہ یہ انتفاع اس کو ناجائز تھا اس کے سبب زررہن سے کچھ ساقط نہ ہوگا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۷و۷۸: ازموہن پور مسئولہ سالاربخش خیّاط ۱۲/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کھیت رہن ۶بیگہ مبلغ ایك سوروپیہ میں رکھاگیا اورلگان اس کا ۶روپیہ ہے اورکاشت خود کرتے ہیں توجائزہے یانہیں؟
(۲)زمین داری ۱۲بسبانسی رہن دخلی ۱۲سوروپیہ میں اورلگان سرکاری ۳۵روپیہ ہیں وہ جائزہے یانہیں؟
الجواب:
(۱)صورت مسئولہ میں اگرموروثی کھیت دخلیکار آسامی سے بالعوض ایك سوروپے کے رہن رکھاہے تو اس میں خود کاشت کرنا اس وقت تك جائزنہیں کہ اصل مالك یعنی زمین دار سے اجازت حاصل کریں دخلیکار آسامی موروثی ہونے سے شرعًا مالك نہیں ہوتا،صورت جواز یہ ہے کہ اس پرقبضہ کے بعد اصل مالك یعنی زمین دار سے اس کے کاشت کی اجازت لے کر لگان زمین دار کوتامدت رہن اداکرتارہے اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے دخلیل کار کوقرض دیاہے اوراس کی ملك رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع