30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لااضحیۃ لہ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کی قربانی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۲)کاشت کارکھیت کامالك نہیں ہوتا،نہ اسے بے اجازت زمین دار رہن کرنے کا اختیار،اوریہاں اگرزمیندار بھی اجازت دے گا تو نہ اس طرح کہ کھیت معطل ہے اوراس کی لگان نہ ملے بلکہ یونہی کہ کھیت تم جوتو اورلگان اداکرو،یہ اجارہ ہوگا نہ کہ رہن،اس صورت میں اس نے جوروپیہ اس کاشتکار کودیا وہ اس کے ذمہ رہا اورکھیت کامستاجراس کی جگہ یہ ہوگیا اسے کھیت سے کوئی تعلق نہ رہا،زمیندار کواختیارہے اس کے پاس رکھے خواہ اسے واپس دے،یہ جوکچھ جوتے بوئے اس کا ہے لگان زمین دارکا ہے اوراس کاقرض کاشتکار پرہے،صورت شرعی تو اس میں یہ ہے،اوراگریہ سمجھتے ہیں کہ کھیت اسی کاشتکار سابق کے اجارہ میں ہے ہمارے پاس رہن ہے اورزمیندار نے بھی اسے مستاجر نہ بنایابلکہ اس کو رکھا اور اس نے اس کاقائمقام ٹھہراکر لگان لیا تویہ صورت باطل ہے مرتہن کو رہن سے نفع لیناجائزنہیں توامرناجائزکاقصدکیا اورناجائز کاقصدبھی گناہ ہے اگرچہ واقع کے خلاف ہوکہ یہ نہ رہن شرعی ہے نہ رہن واجارہ جمع ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۶: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگودریاست کوٹہ راجپوتانہ ۱۰/ربیع الاول شریف۱۳۳۵ھ
ایك کاشتکار کی زمین ملکیت سرکاری اس کاکھاتہ بند ہے اوروہ لگان اس کافی بیگہ دوروپیہ ماہوار بابت کاشت کاردیتارہتاہے یہی زمین اس نے رفع ہونے کی غرض سے مبلغ ایك صدروپے یا اس سے زیادہ کم میں کسی مسلمان کے رہن بالقبض کردی اب مرتہن نے اس کوکاشت کیا اوروہی سرکاری زمین کاجو سابق کاشتکار دیاکرتاتھا سرکارنے اس سے وصول کرلیایا اس نے کسی قدر منافع پردے کرشخص کوکاشت کرادی توجومنافع زمین سرکاری سے مرتہن نے بحالت ادائیگی کھاتہ معہودہ سرکاری حاصل کیا وہ زر رہن میں محبوس کرے گا یاکیا؟
الجواب:
رہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتے یہ زمین کہ اجارہ میں ہے رہن نہ ہوئی اورظاھرًا یہاں یہ بھی نہیں ہوتاہے کہ گورنمنٹ اس کی جگہ اس کومستاجر زمین سمجھے بلکہ مستاجروہی رہتاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع