30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیورجس کے پاس رکھاگیا وہ بندہ خدا سُود سے بچناچاہتاہے اور اس طرح سے نفع حاصل کرناچاہتاہے۔
(۲)اگرایك مسلمان دوسرے مسلمان کے پاس کچھ روپیہ لینے گیا اوراس روپیہ کی ضمانت میں ایك دستاویز لکھا جس میں کوئی جائداد منقولہ یاغیرمنقولہ اس روپیہ کی ضمانت میں تحریر کی اب جس مسلمان نے کہ روپیہ دوسرے مسلمان کو دیا اوراس جائداد کی حفاظت کرنے کاروپیہ مانگتاہے لہٰذا اس کو لیناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
مکرّر یہ ہے کہ یہ سناہے کہ حضونے رہن دخلی کی کوئی ایسی صورت نکالی ہے جو جائزہے امیدہے کہ اس سے بھی مطلع فرمایا جاؤں گا۔
(۳)مکرّر یہ کہ شرعی طورپر ایسی کون کون سی صورتیں پیداہوسکتی ہیں کہ جن سے مسلمان آپس میں ایك دوسرے سے یا غیرقوم سے روپیہ کالین دین کرسکیں اورفائدہ اٹھاسکیں،امیدکہ ایك یا دوصورتیں تحریرفرمادی جائیں جو حسب تصریح فقہائے کرام ثابت یا حدیث نبوی میں واقع ہوں۔اﷲ تعالٰی اس کا اجردے گا،فقط۔
الجواب:
(۱)زیورکہ روپیہ کی ضمانت میں دیاگیااس کے معنی بعینہٖ رھن رکھنے کے ہیں اوررہن کی حفاظت ذمہ مرتہن ہے کہ وہ اسی کے حق میں محبوس ہے اس پراُجرت لینے کے کوئی معنی نہیں اگرلے گا خالص سودہوگا،یہ نفع جائزنہیں ہوسکتا بلکہ قطعی حرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲)جائداد ضمانت میں دینایہاں دوطریقے پررائج ہے،ایك یہ کہ جائداد مالك ہی کے پاس رہتی ہے اور وہ دائن کولکھ دیتا ہے کہ یہ میں نے تیرے دین میں مکفول کی ہے اسے کفالت یا استغراق کہتے ہیں یہ شرعًا محض باطل ومہمل ہے،نہ اس میں کسی حق حفاظت کاوہم ہوسکتاہے کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی نہیں جاتی۔دوسری صورت رہن دخلی کی ہے وہ خود ہی حرام و سُودہے۔تیسری صورت جوشرعی ہے اور یہاں جاری نہیں وہ یہ کہ جائداد مرتہن کے قبضے میں دی جائے اورمرتہن صرف اس پرقبضہ رکھے کسی طرح کانفع اس سے حاصل نہ کرے،یہ صورت جائز اوریہی رہن شرعی ہے اور اس کی حفاظت کا وہی حکم ہے جو جواب اول میں گزراکہ اس پر کچھ لینا محض سوداورحرام قطعی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۳)رہن دخلی کے جواز کی یہاں کوئی شکل نہیں،نہ میں نے نکالی ہے نہ کوئی نکال سکتاہے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع