30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا مطالبہ شرعًا باطل ہو مگرقانون زمانہ کے اعتبار سے اسے بے اس کے دئیے اپنے حق تك وصول ناممکن ہے تو ادامیں مضطرہوا اوررجوع کااختیارملا۔غرض مدارکاراضطرار پرہے نہ اس مطالبہ کے حق ہونے پر،درمختارمیں ہے:
|
وکذا النوائب ولو بغیر حق کجبایات زماننا فانھا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقھا حتی لواخذت من الاکّار فلہ الرجوع علی مالك الارض وعلیہ الفتوٰی[1]۔ |
یونہی شاہی ٹیکسوں کی کفالت صحیح ہے اگرچہ وہ ناحق ہوں جیسے ہمارے زمانے میں مظالم سلطانیہ کیونکہ وہ مطالبہ میں قرضوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدترہیں یہاں تك کہ اگر مزارع سے وہ مظالم وصول کئے گئے تووہ زمین کے مالك کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اسی پرفتوٰی ہے(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
فی اٰخراجارات القنیۃ برمزظھیرالدین المرغینانی وغیرہ المستأجر اذا اخذ منہ الجبایۃ الراتبۃ علی الدور والحوانیت یرجع علی الاٰجر وکذا لاکار فی الارض وعلیہ الفتوی[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قنیہ کی کتاب الاجارات کے آخرمیں ہے ظہیرالدین مرغینانی وغیرہ نے ظاہرکیاہے کہ اگرکرایہ دار سے مروّج ٹیکس جوکہ گھر اوردکانوں پرعائد ہے وصول کیاگیا تو وہ آجر کی طرف رجوع کرے گا۔اورفتوٰی اسی پرہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳: مسئولہ ظہورالدین صاحب ۲۶صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)اگرایك مسلمان کچھ زیور دوسرے مسلمان کے پاس لے کرگیا اوراس سے کچھ روپیہ قرض لیا اور زیوراپنا اس کے پاس روپیہ کی ضمانت میں رکھ دیا جس مسلمان کے پاس زیوررکھاگیاہے وہ زیورکاحق حفاظت یا کرایہ حاصل کرسکتاہے یانہیں؟اوراگرلے تو جائزہوگایانہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع