30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود مرتہن ہے توبعد کی توفیر کایہ خود ہی مالك ہوگا،
|
لما قدمنا ان المنافع فی الاجارۃ وتتقوم الابالعقد فلایملکھا الا العاقد کائنا من کان۔ |
ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ منافع کاقیام عقد کے ساتھ ہی ہوتاہے لہٰذا سوائے عاقد کے چاہے وہ کوئی ہو مکان کامالك نہیں ہوتا۔(ت) |
اگرچہ بوجہ ربا ملك خبیث وحرام ہے اوراس پر فرض ہے کہ یہ توفیر مالکان جائداد کو دے اوریہی بہترہے یاتصدق کردے کما حققناہ فی فتاوٰینا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگرازانجا کہ ملك حرام ہے اور اولٰی یہی ہے کہ مالکوں کو دے تومرتہن کے لئے خیریہی ہے کہ بعد موت راہن بھی اگرتوفیر بقدردَین وصول ہوگئی جائداد سے دست بردار ہو۔ یونہی توفیر اگرروپیہ نہ تھی بلکہ بٹائی ہے تو اس کا غلہ بھی اگرموت راہن تك یا اس کے بعد آج تك اتناوصول ہوگیاکہ بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت دَین کے برابر ہو جب بھی اس کے لئے بہتریہی ہے کہ اپنادین وصول سمجھے اورجائداد چھوڑدے بلکہ جتناروپیہ یاغلہ دَین سے زائد آیا ہو مالکان جائداد کو واپس دے۔عقود الدریہ میں ہے:
|
یرد ما قبض علی المالك وھو الاولٰی ثم سئل أیلزم المسمّی للمالك ام للعاقد فقال للعاقد ولایطیب لہ بل یردہ علی المالک۔[1] |
مرتہن نے جوکچھ قبضہ میں لیا ہے وہ مالك کو لوٹادے وہی اولٰی ہے۔پھرپوچھا گیاکہ مقررشدہ بدل مالك کے لئے لازم ہوگا یا عاقد کے لئے فرمایا عاقد کے لئے مگر وہ اس کے لئے اچھا انہیں بلکہ وہ مالك کو لوٹادے۔(ت) |
وجیزکردری وغمزالعیون میں ہے:
|
اٰجر المرتھن الرھن من اجنبی بلااجازۃ الراھن فالغلۃ للمرتھن ویتصدق بھا کالغاصب اویردھا علی المالک۔[2] |
مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیر مرہون کو اجارہ پردے دیا تو آمدن مرتہن کے لئے ہوگی تو وہ غاصب کی طرح اس کو صدقہ کرے یا مالك کو لوٹادے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع