30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگرعوام جسے رہن دخلی کہتے ہیں جس میں مرہون سے مرتہن کاانتفاع شرط ہوتاہے جیسے مکان رہن میں اس کا رہنا یادیہہ رہن کی توفیر لینایہ قطعًا سوداورمحض حرام اورمردودہے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کردی۔ت)حدیث میں ہے:
|
کل قرض جرّ منفعۃ فھو ربا[1]۔ |
جوقرض نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے(ت) |
جواھرالفتاوٰی میں ہے:
|
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھو ربا۔[2] |
جب شرط لگادی گئی تو یہ ایساقرض ہوگیا جس میں منفعت ہے اور وہ سود ہے(ت) |
اورازآنجا کہ مزارعوں سے عقد کرنے والا راہن ہی ہوا،
|
لانہ العاقد والمنافع انما تتقوم بالعقد۔ |
کیونکہ عقد کرنے والا راہن ہے اورمنافع عقد کے ساتھ قائم ہوتے ہیں(ت) |
تنویرمیں ہے:
|
ماھو بدل عن المنفعۃ کالکسب و الاجرۃ یکون للراھن۔[3] |
جومنفعت کابدل ہے جیسے کسب واجرت وہ راہن کا ہے۔(ت) |
توراہن نے مرتہن نے اتنی توفیرپائی کہ اس کے تمام وکمال دَین کے برابریازائدتھی اوردَین وتوفیرایك جنس ہوں مثلًا روپے قرض دئے تھے اورمزارعوں پربھی لگان میں روپیہ ہی دیاہے نہ بٹائی تومرتہن نے اپنادین وصول پالیا اور وہ چاہے یانہ چاہے مقاصہ ہوگیا یعنی یہ توفیر کہ اس نے لی غصبًا تو اس قدرراہن کادَین مرتہن پرلازم ہوا اورجبکہ یہ اس مقدار کوپہنچ گیا تھا جتنا اس کا دَین راہن پرتھا دونوں کامعاوضہ ہوااتنی توفیر کا تاوان مرتہن پر سے جاتارہا اورمرتہن کادَین راہن پرسے اترگیا اورجائداد رہن سے نکل گئی اب اسے اس پرکوئی حق ومطالبہ باقی نہیں ہے ڈگری داربلامزاحمت اپناحصہ زید سے وصول کرے،اشباہ والنظائر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع