30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کلا العقدین(الرھن والاجارۃ)فان کان البیت مقبوضا فی الرھن دون الاجارۃ اعتبر وکان المرتھن احق بمالیتہ من المستاجر ومن سائر غرماء المیت وان کان مقبوضًا فی الاجارۃ دون الرھن کان المستاجر(ای الذی عجل الاجرۃ)احق من المرتھن ومن سائر الغرماء(حتی یستوفی الاجرۃ المعجلۃاھ در)وان خلا العقدان عن القبض کان جمیع الغرماء اسوۃ فیہ یتقاسمونہ بقدر حقوقھم وان اتصل بکل منھما قبض فالعبرۃ للاسبق تاریخا منھما مالم یجزصاحب القبض العقد المتاخر لانفساخ السابق بالاجازۃ منہ اللعقد اللاحق وکل ھذہ الاحکام صرح بھا علمائنا الاعلام[1]اھ مختصرا موضحا بزیادۃ مابین الاھلۃ۔ |
عقدوں یعنی رہن واجارہ میں نظرکی جائے۔اگراس گھرپرقبضہ بطوررہن ہے نہ کہ بطور اجارہ تووہ معتبرہوگا اورمرتہن مرہون کی مالیت کا مستاجر اورمیت کے دیگرقرضخواہوں سے بڑھ کرحقدارہوگا،اوراگرقبضہ بطوراجارہ ہے نہ کہ بطور رہن تو کرایہ دار(جس نے پیشگی کرایہ اداکردیاہے)مرتہن اوردیگر قرضخواہوں سے بڑھ کر مرہون کی مالیت کاحقدارہوگا(یہاں تك کہ وہ پیشگی اداکیاہواکرایہ پوراوصول کرلےاھ در)اور اگردونوں عقد قبضہ سے خالی ہوں تو تمام قرضخواہ اس میں برابرہوں گے جواپنے اپنے حقوق کے مطابق اس کو تقسیم کریں گے۔اوراگردونوں عقدوں میں سے ہرایك کے ساتھ قبضہ متصل ہے توجو قبضہ تاریخ میں مقدم ہے اس کااعتبار کیاجائے گاجب تك سابق قبضہ والابعد والے عقد کی اجازت نہ دے دے کیونکہ اس کی طرف بعد والے عقد کی اجازت کے باعث پہلا عقد فسخ ہوجائے گا۔ان تمام احکام کی ہمارے علماء کبارنے ایسی تصریح فرمائی جو مختصرمگرچاند سے بڑھ کرواضح ہے۔(ت) |
اوراس کے سوا یہاں ایك اورنکتہ ہے رہن تو شرع میں نہیں ہوتا مگردخلی،قال تعالٰی "][ô"[2] (اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تورہن قبضہ میں کیاہوا۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع