30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۶۹: ازمقام مذکور ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ قبل اس کے دوعریضے خدمت اقدس میں روانہ کئے ہیں مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی افسرمدرس مدرسہ ندوہ کی رائے یہ معلوم ہوئی کہ وہ منافع جائداد مرہونہ ملك مرتہن بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عالمگیری میں ایك جزئیہ موجودہے الاأن یأذن الراھن(مگریہ کہ راہن اجازت دے دے۔ت)براہ دستگیری عاجز ان اس کے متعلق جوتحقیق صحیح حضوروالا کی رائے میں ہو اس سے آگاہ فرماکے سرفرازی بخشی جائے بعید بندہ نوازی سے نہ ہوگا،زیادہ حدادب۔عریضہ قدرت اﷲ خاں ازلکھنؤنئی سڑك جوتابازار۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،آج چوتھا روزہے جواب فتوٰی حاضرکرچکاہوں،غالبًا اس کے وصول سے پہلے آپ نے یہ کارڈ لکھا۔اس فتوٰی میں اس وہم کے تین رد موجودہیں:
(۱)یہاں رہن ہی نہیں محض قرض ہے اورقرض پرنفع سوداورسودکسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔
(۲)اگررہن بھی مانیے تواجازت راہن جسے شرع اجازت مانتی ہے یہاں عنقا ہے ہرگز محض اس کی اجازت بروجہ احسان و تبرع کے طورپر نفع نہیں لیتے بلکہ دَین کے دباؤ سے جس پر اس مرتہن کاراہن کودربارہ کرایہ نوٹس دیناشاہدہے احسان وغیرہ پر نوٹس نہیں ہوتا لاجرم اسے اپناحق سمجھا اوربالجبرحاصل کرناچاہاپھراجازت سے ہوناکیسا۔
(۳)ان سب سے قطع نظرہوتو جب سائل نے تصریح کردی کہ یہ اجازت بعد انقضائے میعاد بربنائے قراردادتھی توقطعًا نفع کی شرط ہوگئی اوردَین پرجونفع شرط کرلیاجائے بالاجماع رباوحرام قطعی ہے اسے بہ اجازت راہن لینانہیں کہہ سکتے بلکہ معاہدہ فاسدہ محرمہ۔
|
ولاحول ولاقوۃ الابالرب العلی العظیم وھو تعالٰی اعلم۔ |
بلندی وعظمت والے رب کی توفیق کے بغیر نہ توبچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع