30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کامنافع حلال طیب ہے یہ خیال نہ کرے کہ دخیل کارکوہم نے قرض دیا ہے اوراس کی ملك رہن رکھی ہے اوراپنے قرض کانفع اس سے لیتے ہیں کہ یہ نیت غلط وباطل ہے اورقصدگناہ سے گناہگارہوگا بلکہ یہی نیت کرے کہ زمین زمین دار کی ہے دخیل کار سے اتنے دنوں کے لئے مل گئی ہے اورہم نے مالك سے اجازت لے کر کاشت کی ہے لہٰذاہم کواپنی کاشت کانفع حلال ہے اس میں حکم یکساں ہے خواہ وہ دخیل کارمسلمان ہویاہندو،
|
لانہ رھن ملك غیرہ فالمالك ان لم یقع منہ اجازۃ الرھن واذن لھذا فی الزرع بالاجر المعھود فھذہ اجارۃنافذۃ وقدکان الرھن موقوفا علی اجازتہ وکل موقوف طرأ علیہ بات بطل وان فرض انہ اجاز الرھن ولودلالۃ فالرھن الٰی اجل فاسدوالفاسد واجب الفسخ ویستبد بہ کل منھما فلما آجر من ھذا بطل الرھن لان الرھن والاجارۃ متنافیان لایجتمعان کما صرحوا بہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔
قال فی ردالمحتار فی مسئلۃ من اعارلیرھن افتی فی الحامدیۃ فیما لوقید العاریۃ بمدۃ معلومۃ |
اس لئے کہ یہ ملك غیرکارہن ہے،چنانچہ مالك نے اگررہن کی اجازت نہ دی اورمرہون زمین میں معین اجرت کے بدلے کاشت کی اجازت دے دی تویہ اجارہ نافذ ہوگا۔ اور تحقیق رہن اس کی اجازت پرموقوف تھا اورہر موقوف جب اس پرقطعیت طاری ہوتو وہ باطل ہوجاتاہے اوراگرفرض کرلیاجائے کہ اس نے رہن کی اجازت دی اگرچہ بطور دلالت ہوتو یہ ایك مدت تك رہن ہواجوکہ فاسد ہے،اورفاسد کافسخ واجب ہوتا ہے۔عاقدین میں سے ہرایك اس کو فسخ کرنے میں مستقل ہوتاہے کہ جب مالك نے اس کواجارہ پردے دیا تورہن باطل ہوگیا کیونکہ رہن اوراجارہ آپس میں متنافی ہیں جوجمع نہیں ہوسکتے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) رد المحتارمیں اس شخص کے بارے میں کہاجس نے کوئی شئے بطورعاریت دی تاکہ اسے رہن رکھے۔حامدیہ میں فتوٰی دیا ہے کہ اگر عاریت کومعین مدت کے ساتھ مقید کیا ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع