30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صاحبہ اوبغیر اذنہ ثم اجاز صاحبہ صحت الاجارۃ و بطل الرھن فتکون الاجرۃ للراھن،وکذٰلك لو استاجرہ المرتھن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جددالقبض للاجارۃ ھٰکذا فی شرح الطحاوی[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اجرت پر دے دی یادوسرے کی اجازت کے بغیردی پھر دوسرے نے اس کی اجازت دے دی تواجارہ صحیح ہوگیا جبکہ رہن باطل ہوگیا اوراجرت راہن کے لئے ہوگی اوریونہی اگر مرتہن نے مرہون کو اجارہ پرلے لیا اجارہ صحیح اوررہن باطل ہوگیا جبکہ اجارہ کے لئے نیاقبضہ پایاگیا یونہی شرح الطحاوی میں ہے۔اوراﷲ سبحانہ وتعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۶۱: ازمقام قصبہ بلرام پورضلع گونڈہ مرسلہ سیدمحمد تجمل حسین صاحب ڈاکٹر
مخدوم ومکرم بندہ حضرت مولوی احمدرضاخاں صاحب بعد سلام علیك کے التماس ہے کہ میں نے ایك مکان رہن یاقبضہ لیا تین سو روپے پر،اوریہ مکان اوردکان ایك ہندوکا ہے اوراسی شخص نے پھرمجھ سے یہ مکان دکان تین روپے مہینے پرکرائے پرلے لیا ہے میعاد دوسال کی ہے مگرشرط یہ بھی دستاویز مذکورمیں ہے کہ اگراندردوسال کے مکان دکان نہ چھڑاسکے تورہن نامہ بجائے بیعنامہ کے سمجھاجائے مجھ کو یہ علم نہ تھا کہ یہ فعل ناجائزہے اوربراہ بندہ نوازی اس مسئلہ سے مطلع فرمائیے کہ جوکرایہ نامہ میں نے لکھا ہے وہ روپے لوں یا نہ لوں؟ جائزہے لینا یانہیں،اوروہ روپیہ کسی غریب یاکسی حاجتمند کودیاجاسکتاہے یعنی کسی کام میں یہ روپیہ کرایہ کاصرف ہوسکتاہے یانہیں؟ اگریہ روپیہ کسی کام میں آسکتاہے توخیر،اوراگرکسی کام میں نہیں آسکتا تواتنے روپے کو کیاکیاجائے یاجس کے یہ روپیہ ملے اسی کو واپس کیاجائے؟ جواب صاف مرحمت ہو۔ایك شخص مجھ سے کہتاہے کہ اگریہ روپیہ ناجائزہے اورآپ اپنے صرف میں نہیں لاسکتے ہیں تومیں قرضدارہوں جس کی ادامیرے امکان سے باہرہے مجھ کو دے دیجئے کہ میں قرضہ اداکروں۔
الجواب:
سیّدصاحب سلّمہ فی الواقع رہن دخلی بھی سودہے اورشیئ مرہون کاراہن کوکرایہ پر دینااوراس سے کرایہ لینابھی سودہے اور سود لینا حرام مگر جب کہ وہ شخص ہندوہے اگراس نے کسی مسلمان سے سودلیاہوتواس سے یہ رقم نہ بہ نیت سود بلکہ اس نیت سے کہ اس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع