30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعلیق التملیکات بالشرط باطل کالبیع والشراء۔[1] |
تملیك والے معاملات کوشرط کے ساتھ معلق کرنا باطل ہے جیسے بیع اورشراء۔(ت) |
اورہن یوں بے معنی ہے کہ وہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
|
قال اﷲ تعالٰی "][ô"۔[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:تورہن ہو قبضہ میں لیاہوا۔(ت) |
قدوری میں ہے:
|
الرھن یتم بالقبض۔[3] |
رہن کی تکمیل قبضہ سے ہوتی ہے۔(ت) |
اورجب رہن ہنوزتام نہیں ہوا تومرتہن کوتحصیل قبضہ پرجبرنہیں پہنچتا،نہ بے اذن راہن قبضہ کرسکتاہے۔عالمگیری میں ہے:
|
قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب الرھن لایجوز الرھن الا مقبوضا کذا فی المحیط و شرط صحۃ القبض ان یاذن الراھن فان قبض بغیراذن الراھن لم یجز قبضہ۔[4] (مختصرًا) |
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے کتاب الرھن میں فرمایا قبضہ کے بغیررہن جائزنہیں،محیط میں یوں ہے،اورقبضہ صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ راہن اجازت دے اگرراہن کی اجازت کے بغیر قبضہ کیاتو اس کا قبضہ جائزنہ ہوا،مختصرًا۔(ت) |
راہن کواختیارہے کہ بے ادائے دین اپناقبضہ رکھے۔عنایہ میں ہے:
|
ان قبضہ المرتھن علٰی ھذا الوجہ تم العقد ولزم وان لم یقبضہ فان الراھن بالخیار بین التسلیم |
اگرمرتہن نے مرہون پررہن کی بناپرقبضہ کرلیاتو عقد تام اور لازم ہوگاورنہ راہن کو سونپنے اورنہ سونپنے کااختیار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع