30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بینواتوجروا فقط سائل زید۔
الجواب:
بیع بالوفاء خالص رہن ہے رہن سے زیادہ کچھ اثرنہیں رکھتی۔
|
فی ردالمحتار عن حاشیۃ جامع الفصولین عن جواھر الفتاوٰی ھٰذا البیع باطل وھو رھن وحکمہ حکم الرھن وھو الصحیح۔[1] |
درمختارمیں حاشیہ جامع الفصولین سے بحوالہ جواہرالفتاوٰی منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے اور وہ رہن ہے اس کا حکم رہن کے حکم کی طرح ہے اور وہی صحیح ہے۔(ت) |
خیریہ میں ہے:
|
والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قدفشاھٰذا البیع بین الناس و فیہ مفسدۃ عظیمۃ وفتواك انہ رھن وانا ایضا علٰی ذٰلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھٰذا و نظھرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوانا وقد ظھر ذٰلك بین الناس فمن خالفنا فیہ فلیبرز نفسہ و لیقم دلیلہ۔[2] |
اوراکثرمشائخ اس مؤقف پرہیں کہ بے شك وہ رہن ہے اورکسی حکم میں رہن سے مختلف نہیں ہے۔سیدامام نے کہا کہ میں نے امام الحسن ماتریدی سے کہایہ بیع لوگوں میں پھیل چکی ہے اوراس میں فساد عظیم ہے۔آپ کا فتوٰی یہ ہے جس کے ساتھ میں بھی متفق ہوں کہ یہ رہن ہے،درست بات یہ ہے کہ ہم ائمہ کرام اجماع کرلیں اور اس پرمتفق ہو جائیں،اس فتوٰی کولوگوں میں ظاہرکریں،توانہوں نے فرمایا کہ آج کل ہمارافتوٰی معتبرہے اوروہ لوگوں میں ظاہرہے۔لہٰذا جوہماری مخالفت کرے اس کوچاہئے کہ وہ خود ظاہرکرے اور اپنی دلیل قائم کرے۔(ت) |
اورشرع مطہر میں رہن واجارہ دوعقدمتنافی ہیں کہ کسی حال جمع نہیں ہوسکتے جو چیز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع