30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائداد واگزاشت کردے اس نے جواب دیاکہ میں مع سود روپیہ لوں گا،زیدنے ایك دستاویز اسی شخص کے نام ایك دوسرے شخص سے جس کا وہ مقروض تھا خریدی پھرچند مدت تك وہ دستاویز زید کے پاس رہی بعد کو اس سے کہاگیا کہ تو ہماری جائداد کاجزچھوڑدے اس نے بخوف دستاویز خریدکردہ کے(ما)روپے چھوڑدیا اب زیدعمرو سے کہتاہے کہ مجھے(ماصہ عہ۱۲۵ٌ) روپے میرے حصے کے دے اب عمرو پرازروئے شریعت(ما صہ عہ ۱۲۵)اسے دینالازم ہے(یاللعہ للعہ۴۴)کہ نصف(مہ لہ) ہے بیّنوا توجروا۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہواکہ زید نے سَوروپے دے کر فك رہن کرایا اورکاغذ میں مرتہن سے ڈھائی سو روپے پانالکھ لیا اس صورت میں اس کا سواسوروپے مانگنا محض ناجائزہے صرف پچاس(مہ۵۰)روپے لے سکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۹: ازریاست رامپور محلہ گنج مرسلہ شیخ محمدنور ۳/صفرمظفر۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زیدنے ۲۴/اگست ۱۸۹۸ء کوایك دستاویز بہ مضمون بیع نامہ بعوض مبلغ پانصدروپیہ بابت یکمنزلہ دکان مملوکہ خود بنام عمروتحریرکی ہے جس میں شرط مندرجہ ذیل تحریرہے:
مضمونِ شرط
اگرمیں بائع اندرمدت دس سال کے کل زرثمن یکمشت مشتری کواداکروں تو مبیعہ مذکورہ واپس لے لوں ورنہ بعد انقضائے میعادمذکور کے اسی زرثمن میں یہی بیع قطعی تصور ہوگی لہٰذا بیعنامہ بالوفا لکھ دیاگیا کہ سندہو۔
عمروفوت ہوگیا زیدنے دکان مذکور پراپناقبضہ کرکے دکاندار سے کرایہ دکان کاخود وصول کیا ورثائے عمرونے اول زید پرعدالت میں دعوٰی دلا پانے دخلی کاباستحقاق رہن کیاعدالت سے ڈگری باستحقاق رہن دلاپانے دخلی کی ہوگئی مگرتاہنوز ورثائے عمرو نے دخلی حاصل نہیں کیا ہے اب ورثائے عمروبنام زید دعوٰی کرتے ہیں کہ جس قدرکرایہ زید نے ایام قبضہ رہنے میں کرایہ دار سے وصول کیاہے وہ ہم کو زید سے دلایاجائے،زیدیہ عذر کرتاہے کہ ورثائے عمروشرعًا مجھ سے رقم زرکرایہ جومیں نے اپنی مملوکہ دکان سے وصول کیاہے مجھ سے دلاپانے کے مستحق نہیں ہیں شرعًا کیاہوناچاہئے؟ جواب بحوالہ کتب فقہ تحریر فرمائیے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع