30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۵۷: ازشہر متصل کچی سرائے مرسلہ ابوتراب بوساطت محمدعبدالرشیدصاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرصہ تین سال کاہواکہ ایك دکان زیدنے(ماصہ عہ ۱۲۵) روپیہ پر رہن دخلی بمیعاد پانچ سال حسب فتوٰی ایك مولوی صاحب کے لیاتھا(یعنی اس عرصہ میں جوکچھ اس کی مرمت میں صرف ہواوہ میرااورکچھ آمدنی اس مدت میں ہوگی وہ میری ہوگی جب روپیہ واپس کروگے دکان چھوڑدوں گا)اورتین سال تك اسی طرح کرتارہا یعنی اس کی مرمت وغیرہ اپنے پاس سے کرکے منافع کولیتارہااب وہی مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہےاب آپ حضرات سے التجا ہے کہ مولومی صاحب کے ان قولوں میں کو ن صحیح ہے اگر وہ واقعی حرام ہے تو اس مدتِ تین سال میں جوکچھ روپیہ مولوی صاحب نے کھلایااس کاگناہ کن پرہوگا اور وہ روپیہ کس طرح پاك ہوسکتاہے؟
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مولوی صاحب ماخوذوگنہگارہیں کہ انہوں نے حرام غذا کو حلال بتایا اورایك مسلمان کو حرام کھانے میں مبتلاکیا،اوریہ مسئلہ کوئی ایساخفی نہ تھا کہ عالم پرمخفی رہتا،رہازید اس کی دوحالتیں ہیں،وہ مولوی صاحب جس کے فتوٰی پر اس نے عمل کیاکوئی ایساہی نام کامولوی تھا جب توزیدبھی ماخوذوگنہگارہے،عوام کویہ حکم ہے کہ علمائے معتمدین مفتیان مستندین کے فتوٰی پر عمل کریں نہ یہ کہ ہر کس وناکس سے پوچھ کر،اوراگروہ عالم معتمد تھا توجب تك اس فعل کے حرام ہونے پر زیدکو اطلاع نہ ہوئی اس کے لئے امیدآسانی ہے کہ اس نے ایك عالم معتمد کے فتوٰی پرعمل کیا وہ اسی قدرکرسکتاتھا۔
|
" لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ"۔[1]واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی کسی جان پربوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۵۸: ازشہربریلی محلہ گندہ نالہ مرسلہ جناب سیدحاجی ابوالحسن صاحب پارچہ فروش ۲۵/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
زیدوعمرو نے ایك جائداد باہمی خریدی اورنفع نقصان اس کابرابر ٹھہرایا اسی جائداد کاایك جز ایك اورشخص کے پاس رہن تھا مبلغ (سہ لہ۸۸)روپے پر،تو اس کوکہاگیاکہ توہماری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع