30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راہنوں کو اس پرمجبورکرتے ولہذٰا دستاویز میں لکھالیتے ہیں اور اگربعد تحریرراہن انہیں انتفاع سے منع کریں کبھی بازنہ رہیں گے بلکہ تاادائے زررہن اپناحق جانیں گے،یہ نہ ہرگز راہنوں کی طرف سے بطور خود محض احسانًا بے دباؤ اپنے ملك کی منفعت جب تك اپناجی چاہے مباح کرناہے نہ مرتہنوں کی طرف سے نرے اجنبی طورپربے کسی دعوٰی بے کسی داب کے صرف اجازت دہندہ کی خوشی پرجب تك وہ چاہے اس کی ملك سے نفع پاتاہے بلکہ قطعًا وہی شرط وقرارداد لزومی اوروہ بالاجماع حرام ورباہے،
طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتارمیں ہے:
|
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع[1]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ورنہ قرض پردرہم نہ دیں گے اور یہ شرط کی طرح ہوگیاکیونکہ معروف مشروط کی مثل ہوتاہے اوروہ ممانعت کو متعین کرتاہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
راہنوں کا منافع مرتہنوں کوہبہ کردینامحض لغوبے معنی ہے منافع کہ ہبہ کئے گئے اس وقت موجود نہ تھے اورمعدوم کاہبہ باطل ہے اورباطل کے لئے کوئی اثرنہیں۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
وبھٰذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولٰی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاھر۔[2] |
اور اسی سے معلوم ہوگیاکہ دونوں قریوں سے اب جو آمدنی حاصل ہوگی اس کا ہبہ بدرجہ اولٰی صحیح نہیں کیونکہ ہبہ کرنے والے نے ابھی خود اس پرقبضہ نہیں کیاتو کسی کو اس کامالك کیسے بناسکتاہے اوریہ ظاہرہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع