30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تہذیب وجامع المضمرات میں ہے:
|
یکرہ للمرتھن ان ینتفع بالرھن وان اذن لہ الراھن۔[1] |
مرتہن کورہن سے انتفاع مکروہ ہے اگرچہ راہن اجازت دے دے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
قال المصنف وعلیہ یحمل ماعن محمد بن اسلم انہ لایحل للمرتھن ذٰلك ولو بالاذن لانہ ربا۔[2] |
مصنف نے کہا اوراسی پرمحمول ہے وہ جو محمدبن اسلم سے مروی ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھاناجائز نہیں اگرچہ راہن کے اذن سے ہوکیونکہ وہ سود ہے۔(ت) |
غمزالعیون میں ہے:
|
فی الجامع لمجد الائمۃ عن عبداﷲ بن محمد بن اسلم انہ لایحل لہ ان ینتفع بشیئ منہ وان اذن لہ الراھن لانہ اذن فی الربا،لانہ یستوفی دینہ فتکون المنفعۃ ربا۔[3] |
مجدالائمہ کی جامع میں عبداﷲ بن محمد بن اسلم سے منقول ہے کہ مرتہن کومرہون سے کچھ بھی نفع اٹھانا جائزنہیں اگرچہ راہن نے اس کی اجازت دی ہوکیونکہ یہ سُود کی اجازت ہے اس لئے کہ مرتہن اپنا قرض پوراوصول کرتاہے تومنفعت سودہوگی۔(ت) |
تحقیق یہ ہے کہ انتفاع مرتہن جب مشروط ہوجائے توباہم اس کی قرارداد عمل پرآئے توبالاجماع حرام ہے اورجوامرعرف ظاہر سے معلوم ومعہود ہو وہ بلاذکربھی مثل مشروط ہے اورشك نہیں کہ اب انتفاع مرتہنان کی بلاضرور دائروسائر وعالمگیرہے تو رہن میں اگر اس کاذکربھی نہ آتا عرفًا مشروط قرارپاتا اورحرام ہوتا،راہنوں کی اجازت قطعًا اسی عرف پرمبنی اور اسی قرض کے دباؤ سے ناشیئ ہے یہ نہ ہو توہرگزوہ اجازت نہ دیں کہ ہماری جائداد کامنافع زیدوعمرولیں اورہم نہ پاسکیں،مرتہنوں کاقرض دینابھی اسی منافع پرہے اوروہ ضرور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع