30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للراھن ان یضمن ایھما شاء۔[1] |
اگرمرہون مشتری کے قبضہ میں راہن کی اجازت سے قبل ہلاك ہوجائے تواس کے بعد کی اجازت جائزنہیں اورراہن کواختیارہوگاکہ مرتہن اورمشتری میں سے جسے چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت) |
درمختاروردالمحتار میں ہے:
|
ضمن بتعدیہ(کالبیع بلااذن قھستانی)کل قیمتہ(ای بالغۃ مابلغت لانہ صار غاصبا،اتقانی)فیسقط الدین بقدرہ[2]اھ مختصرا۔ |
مرتہن اپنی تعدی کی وجہ سے(جیساکہ بلااجازت بیع، قہستانی)کل قیمت کاضامن ہوگا(یعنی وہ قیمت جس قدربھی ہو،اتقانی)لہٰذا اس کے برابر قرض ساقط ہوجائےاھ اختصار (ت) |
پس صورت مستفسرہ میں بکر پرلازم ہے کہ زیورہنوزنہیں بیچا توفورًا اپنا دیاہواروپیہ لے کرکل زیورواپس کردے اوراس مہمل و باطل قراردادکی آڑنہ لے اوراگربکرنے واقع میں بیع کردیا اورزیورہنوز مشتری کے پاس موجودہے توزید کواختیارہے چاہے اس میں بیع کوجائزکردے اورزرثمن تمال وکمال خود لے یارد کردے اگررد کردے تومشتری پرفرض ہے کہ روپے واپس کرے، اوراگرزیور تلف ہوگیایااب اس کاپتانہیں چلتاقابو سے باہرہے توزید اس کاپوراتاوان بکر سے لے سکتاہے مثلًا اگربکرنے ستر روپے اسے دئیے اورزید کابازار کے بھاؤ سے سوروپے کانکلاتو بکرکے سترروپے ساقط برابر ہوگئے زیادہ کے تیس روپے زید کو دے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۴: ازشہرکہنہ مرسلہ عبدالصمدصاحب ۸ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کوشیئ مرہون سے نفع اٹھانا بہ اجازت راہن جائزہے یانہیں؟
الجواب:
مرہون سے انتفاع حرام محض ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع