30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علٰی انہ فی شھر کذا یحضر الثمن ویسترجع الدارثم مضی الزمن المعین بینھما ولم یقدر البائع علی الثمن الا بعد مدۃ والثمن دون قیمۃ الدار فھل للبائع دفع الثمن واسترجاع الدار،اجاب یجبر المشتری علٰی قبول الثمن من البائع ورد الدار علیہ،والذی علیہ الاکثر انہ رھن لایفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام[1]اھ ملخصا۔ |
ساتھ جولوٹائی جائے گی اس شرط پرکہ فلاں مہینے بائع ثمن حاضر کردے گا،اورگھر واپس لے لے گا۔پھران دونوں کے درمیان طے شدہ مدت گزرگئی درآنحالیکہ بائع ثمن حاضر کرنے پرقادرنہ ہوا مگر اس کے کچھ عرصہ بعد وہ دینے پرقادر ہواجبکہ ثمن قیمت سے کم ہیں۔توکیابائع کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ثمن دے کرگھرواپس لے۔اس کایہ جواب دیاگیاکہ مشتری کوبائع سے ثمن وصول کرنے اورگھرواپس لوٹانے پر مجبورکیاجائے گا۔اکثر مشائخ اس مؤقف پرہیں کہ یہ بیع رہن ہے کیونکہ اس میں اوررہن میں کسی بھی حکم میں فرق نہیں اھ تلخیص(ت) |
جواہرالفتاوٰی پھرحاشیہ جامع الفصولین پھرردالمحتار میں ہے:
|
حکمہ حکم الرھن وھو الصحیح[2]۔ |
اس کاحکم وہی ہے جورہن کاحکم ہے اوروہی صحیح ہے۔(ت) |
اسی طرح جواہرالاخلاص میں ہے کما رأیتہ فیھا(جیساکہ میں نے اس میں دیکھاہے۔ت)شرح الطحاوی پھرجامع الرموزپھر حاشیہ شامی میں ہے:
|
توقف علٰی اجازۃ الراھن بیع المرتھن فان اجازہ جاز و الافلا،ولہ ان یبطلہ ویعیدہ رھنا،ولوھلك فی ید المشتری قبل الاجازۃ لم تجزالاجازۃ بعدہ و |
مرتہن اگرمرہون کوبیچ دے تویہ بیع راہن کی اجازت پر موقوف ہوگی۔اگرراہن نے اجازت دے دی توجائزورنہ نہیں۔راہن کواختیارہے کہ بیع کوباطل کرکے اسے رہن کی طرف لوٹادے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع