30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظہوریافت وقول ایشاں کہ بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکار ست باچہ کارآید کہ قبضہ انتفاع وتمکن انتفاع را شامل واینجا محض تمکن ازثمر عاطل کما قد القینا علیك سخن گفتنی مانداز اقرار نامہ کہ مدعا علیہ بتحریرش پرداخت اگرنیك بنگری ہماناسراسر لغوومہمل ست وبربیانش حکمے نمی رسد اینکہ مجرد وعدہ وآں ھم بچیزے کہ شرعا وجہ صحت ندارد ازچہ رومواخذہ و مدعی رامطالبہ رواباشد،بالجملہ ہرچند دراجارہ ملك غیر بے رخصت شرع مطہر اگرپیش از استیفائے منافع اجازتے از مالك رونماید استحقاق اجرت مرعاقد مؤاجر رامی باشد شرع فرمائش دہدکہ بصدقہ دہ یابدامان مالك نہ کما فی منیۃ المفتی والخانیۃ والغمز والھندیۃ وغیرہ اما در صورت مستفسرہ بربنائے وجوہ مذکورہ گردن عمرو ازباراجرت آں فرومی بینم فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ ایں مباحث را |
ہوسکتاہے کہ عمرو کی رہائش اسی معلوم بے تکلفی پرمبنی ہو جو ماں باپ اوراولاد کے درمیان ہوتی ہے،جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ مسکین اولاد اگرچہ الگ رہتی ہو ان کے لئے گاہے بگاہے والدین کے پاس رہنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے،گواہوں کے اس بیان سے نفع حاصل کرنے کی مدت بھی واضح نہیں ہوتی اوران کایہ کہنا کہ"تاحال مدعاعلیہ کا اس مکان پرقبضہ ظاہروباہر ہے"کس کام آئے گا؟ کیونکہ قبضہ دونوں صورتوں کوشامل ہے(۱)نفع حاصل کرنے اور(۲)نفع حاصل کرنے کی قوت(یعنی بالفعل اور بالقوۃ نفع حاصل کرنے کو شامل ہے)اور اس جگہ صرف نفع حاصل کرنے کی قوت بے فائدہ ہے،جیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔کہنے والی ایك بات رہ گئی اوروہ یہ کہ مدعاعلیہ نے جو اقرارنامہ تحریرکیاوہ بالکل لغو اور مہمل ہے،اس کے بیان پرکوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا،اس نے صرف ایك وعدہ کیاہے اور وہ بھی ایسی چیز کاجو شرعًا صحیح نہیں ہے،لہٰذا نہ تومواخذہ ہوسکتاہے اورنہ ہی مدعی کا مطالبہ جائزہے۔مختصر یہ کہ غیر کی ملکیت کوشریعت مطہرہ کی اجازت کے بغیر کرائے پردینے میں اگرمنافع کے حاصل کرنے سے پہلے مالك اجازت دے بھی دے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع