30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مرہون درچہ قدرمدت پدید آمدکائنا ماکان وانگہے ازاُجرت برذمہ اولازم نیست زیراکہ چوں حقیقت انتفاع پربہوائے عدم کشاید لزوم اجرنیزعنان معائش درگوتمکن ھزار باشد و خود ازینجاچہ مے پرسی کہ جائے تمکن ہم مفقود ست زید راگو کہ ازگریبان عمرو دست کوتاہ دارد از شہادت شہدائے زیدہم اینجا کارے نکشاید وآبے برروئے کارنیاید کہ ازبیان شان بر تقدیر استجماع شرائط قبول ہمیں قدربثبوت می پیوندد کہ مدعاعلیہ براں مکان قبضہ آورد باوابستگان خویش دروسکونت کرد ازکجاکہ مدعی نیزآں مکان را از سامان خود تفریغ نمودہ بدست مدعا علیہ سپرد وخود باتوگفتہ ایم کہ مجرد سکونت بے تسلیم مواجر بروجہ اجارہ اینجا ثمرے ندارد می تواند کہ سکونت عمروبرسبیل ہماں انبساط معہود کہ درمیان اصول وفروع بودہ باشد کہ اولاد راچنانکہ دانی اگرچہ مساکیں جداگانہ باشدگاہے از سکونت نزد والدین ھم مانع نیست نہ ازیں بیاں گواہان مدت انتفاع رنگ |
کرنے کی فکرکی ہوگی؟ یارہن کوچھڑانے اوررہن رکھی ہوئی چیزکو تبدیل کرنے پرکتنی مدت صرف ہوئی ہوگی؟بہر صورت عمروکے ذمہ پر کرایہ لازم نہیں ہے،اس لئے کہ جب حقیقت انتفاع ہوائے عدم میں پرَکھولتی ہے توکرائے کالازم ہونابھی اپنی لگام پھیرلے گا(یعنی جب حقیقۃً نفع حاصل نہیں کیاگیاتو کرایہ بھی لازم نہیں ہے۱۲مترجم)اگرچہ نفع حاصل کرنے کی قوت ہزارمرتبہ ہو،آپ اس جگہ کیاپوچھتے ہیں کہ یہاں تونفع حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں ہے،زید کو کہیں کہ عمروکاگریبان چھوڑدے،زیدکے گواہوں کی گواہی سے بھی اس جگہ کوئی کام نہیں بنتا اورپانی کارآمد ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ قبولیت کی شرطیں جمع ہونے کی صورت میں بھی ان کے بیان سے صرف یہی بات ثا بت ہوتی ہے کہ مدعاعلیہ نے اس مکان پرقبضہ کرلیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیار کرلی،یہ بات کہاں سے ثابت ہوئی کہ مدعی نے بھی وہ مکان اپنے سامان سے خالی کرکے مدعالیہ کے سپرد کیا۔ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ محض رہائش کا اس جگہ کوئی فائدہ نہیں ہے جب تك کہ مالك بطور کرایہ کرائے دار کے سپرد نہ کرے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع