30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مہرسکوت برلب نہابعد ایں قدر مدت مدید برائے اجرت یافتن استغاثہ کردگواہانش بوقوع رہن واجارہ شہادت دادہ بیاں می کنند کہ مدعاعلیہ پس ازتصدیق اجارہ نامہ وسپردنش بمدعی قبضہ برمکان کردبہ متعلقان خویش دروسکونت،ورزید بلکہ ہنوز قبضہ مدعاعلیہ براں مکان آشکارست حالاازعلمائے دین متین ایدھم اﷲ بتوفیقہ استفسار میرودکہ درصورت مذکورہ حکم شرعی چیست ورہن واجارہ مسطورہ صحیح است یانہ و زر کرایہ کل یابعض برذمہ عمروواجب الادا ست یاچہ وگواہی مذبور صالح استناد وشایان اعتماد است یاخیر۔بینواتوجروا۔ |
سال تك کرائے کے مطالبے سے خاموش رہا،اس طویل مدت کے بعد اس نے کرایہ وصول کرنے کے لئے دعوٰی کر دیا،اس کے گواہوں نے گواہی دی کہ عقدرہن بھی پایاگیا اور عقد اجارہ بھی پایاگیا،گواہوں نے یہ بھی بیان کیاکہ مدعاعلیہ نے کرایہ نامہ کی تصدیق اوراسے مدعی کے سپرد کرنے کے بعد مکان پرقبضہ کیا اوراپنے متعلقین سمیت اس میں رہائش اختیار کرلی،بلکہ اب بھی مدعاعلیہ کاقبضہ اس مکان پر ظاہرو باہر ہے۔اب علماء دین متین سے دریافت کیاجاتاہے اﷲ تعالٰی اپنی توفیق سے انہیں تقویت عطافرمائے کہ صورت مذکورہ میں شرعی حکم کیاہے کیارہن اوراجارہ مذکورہ صحیح ہے یا نہیں؟ اورکرایہ پورایااس کاکچھ حصہ عمرو کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں؟ اورمذکورہ گواہی قابل اعتماد ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔ |
الجواب:
|
رہن مذکورہ ہرگزصحیح نیست واگرنباشد دروجز تقرر اجل تاایں قدرہم افساد رابسنداست فی الاشباہ الاجل فی الرھن یفسدہ[1]ہم چنیں آں اجارہ نیزوجہ صحت ندارد کہ تقریر سوال سپیدمی گوید کہ مدت درپردہ جہالت ماندنفس ایجاب وقبول ازذکر اجل |
رہن مذکور ہرگزصحیح نہیں ہے،اگراس میں مدت کے معین کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تو یہ بھی رہن کے فاسد کرنے کے لئے کافی تھا،الاشباہ میں ہے،رہن میں مدت کامقرر کرنااسے فاسد کردیتاہے،اسی طرح اس اجارہ(کرائے پردینے)کے صحیح ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے،سوال کی عبارت سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع