30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلاباس[1]۔ |
حرج نہیں۔(ت) |
فتح القدیرمیں ہے:
|
فی الفتاوی الصغری وغیرھا ان کان النفع مشروطا فی القرض فھو حرام والقرض بھذا الشرط فاسد و الاجاز،الاتری انہ لو قضاہ احسن مما علیہ لایکرہ اذا لم یکن مشروطا وقالوا وانما یحل ذٰلك عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاھر،فان کان یعرف ان ذٰلك یفعل لذٰلك فلا[2]اھ ملخصًا۔ |
فتاوٰی صغرٰی وغیرہ میں ہے کہ اگرقرض میں نفع کی شرط لگائی گئی تونفع حرام،اورقرض اس شرط کے ساتھ فاسد ہوگا، اور اگرشرط نہیں لگائی گئی توجائزہے۔کیاتونہیں دیکھتا کہ جس پر قرض ہے اگروہ قرض سے زیادہ بہترواپس کرے تو یہ مکروہ نہ ہوگا بشرطیکہ اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔مشائخ نے کہا عدم شرط کی صورت میں یہ حلال تب ہوگا جب زیادہ واپس کرنے کا عرف ظاہرنہ ہواوراگریہ معروف ہے توپھرایسا کرنا جائز نہیں اھ اختصار۔(ت) |
منح الغفار میں جواہرالفتاوٰی سے ہے:
|
اذا کان مشروطا صار قرضا فیہ منفعۃ فھوربًا والافلا باس بہ۔[3] |
جب شرط لگادی گئی تویہ ایساقرض ہوگیاجس میں نفع ہے لہٰذا وہ سودہوا اور اگرمشروط نہیں توکوئی حرج نہیں۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ما فی الجواھر یصلح للتوفیق وھو وجیہ،وذکر وا نظیرہ فیما لو اھدی المستقرض للمقرض |
جوکچھ جواہر میں ہے وہ موافقت کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ وجیہ ہے۔اس کی نظیرمشائخ نے ذکرکی کہ جب مقروض قرض دہندہ کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع