30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المرتھن بمنزلۃ الودیعۃ ففی کل موضع لوفعل المودع بالودیعۃ لایغرم فکذٰلك اذا فعل المرتھن ذٰلك بالرھن [1]اھ ملتقطا |
کہ مرہون شیئ بعینہٖ مرتہن کے ہاتھ میں امانت ہے جیسا کہ ودیعت۔چنانچہ جس جگہ ودیعت میں کچھ تصرف کرنے سے اس شخص پرتاوان لازم نہیں آتا جس کے پاس ودیعت رکھی گئی اسی طرح وہاں رہن میں جب مرتہن کوئی تصرف کرے تو اس پربھی تاوان لازم نہیں آئے گااھ(التقاط)(ت) |
اوراگرباذن راہن واقع ہوں تو یہ تصرفات اگرچہ جائزونافذہوں گے مگروہ رہن زائل ہوجائے گا اورمرتہن مذکورمرتہن نہ رہے گا،
|
فی الدرالمختار الاجارۃ والرھن من اجنبی اذا باشرھا احدھما باذن الاٰخر یخرج عن الرھن ثم لایعود الابعقد مبتدأ لانھا عقود لازمۃ بخلاف العاریۃ [2]اھ ملخصا۔ |
درمختارمیں ہے اجنبی شخص سے مرہون کااجارہ یاعقدرہن جبکہ راہن اورمرہون میں سے کوئی ایك دوسری کی اجازت سے اس کامباشر ہوتو وہ رہن سے خارج ہوجاتاہے پھرسوائے نئے عقد کے رہن کی طرف عود نہیں کرتا اس لئے کہ مذکورہ بالاعقود لازم ہیں بخلاف عاریت کے الخ ملخصا(ت) |
بہرحال یہ حیلہ عمرو کوکچھ مفیدنہیں کہ اگرزید کااذن نہ تھا تویہ عقود مال غیر میں تصرف بےجا وگناہ ہے نہ اس مکان میں رہنا جائز،اوراگرباذن زیدواقع ہوئے یابعد وقوع اس نے جائز کردئیے تواجارہ صحیح اورمکان میں سکونت حلال بعداجازت اورجو کرایہ ہو اس کامالك زیدمگرمکان رہن سے نکل گیا۔
|
فی شرح الطحاوی ثم التتارخانیۃ ثم الشامیۃ ان رھن باذن الراھن صح الثانی وبطل الاول [3]اھ،وفی الھندیۃ ان آجر المرتھن |
شرح طحاوی پھرتاتارخانیہ پھرشامیہ میں ہے اگرمرتہن نے راہن کی اجازت سے مرہون شیئ کو کسی کے پاس رہن رکھا تودوسرا رہن صحیح اورپہلا باطل ہوگیا الخ ہندیہ میں ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع