30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۵: ۲۲صفر ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیئ مرہونہ کو اپنے استعمال میں لانا یا اس میں سکونت کرنا کسی طور سے جائز ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
کسی طرح جائزنہیں،حدیث میں ہے:
|
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو[1]۔اخرجہ الحارث عن سیدنا علی کرّم اﷲ تعالٰی وجھہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
یعنی قرض کے ذریعہ سے جومنفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔(اس کی تخریج حارث نے سیدنا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے کی اور حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے اس کونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت) |
علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی خود شرح درمختارمیں فرماتے ہیں:
|
الغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ |
لوگوں کاغالب حال یہ ہے کہ وہ مرہون شیئ دیتے وقت نفع اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع