30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسندصحیح۔ |
میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
اورمروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
من سألکم باﷲ فاعطوہ وان شئتم فدعوہ۔رواہ الامام الحکیم الترمذی [1]فی النوادر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
یعنی جو تم سے خدا کاواسطہ دے کرمانگے اسے دو اور اگرنہ دینا چاہو تواس کابھی اختیار ہے(اس کو امام حکیم ترمذی نے نوادر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
لایسأل بوجہ اﷲ الا الجنّۃ۔رواہ ابوداؤد[2] والضیاء عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
اﷲ کے واسطے سے سوائے جنت کے کچھ نہ مانگاجائے(اس کو امام ابوداؤد اورضیاء نے صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
علمائے کرام نے بعد توفیق وتطبیق احادیث یہ حکم منقح فرمایاکہ اﷲ عزوجل کاواسطہ دے کرسوا اخروی دینی شیئ کے کچھ نہ مانگا جائے اور مانگنے والااگرخدا کاواسطہ دے کرمانگے اوردینے والے کا اس شیئ کے دینے میں کوئی حرج دینی یادنیوی نہ ہوتو مستحب وموکد دیناہے ورنہ نہ دے بلکہ امام عبداﷲ بن مبارك رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جوخدا کاواسطہ دے کرمانگے مجھے یہ خوش آتاہے کہ اسے کچھ نہ دیاجائے یعنی تاکہ یہ عادت چھوڑدے،اس تفصیل سے سب سوالات کاجواب واضح ہوگیا۔جوخداکا واسطہ دے کربیٹی مانگے اور اس سے مناکحت کسی دینی یادنیوی مصلحت کے خلاف ہے یا دوسرا اس سے بہترہے توہرگزنہ مانا جائے کہ دخترکے لئے صلاح واصلح کالحاظ اس بیباك سے اہم واعظم ہے اور روپیہ پیسہ دینے میں اپنی وسعت وحالت اور سائل کی کیفیت وحاجت پرنظردرکار ہے اگریہ سائل قوی تندرست گدائی کاپیشہ ورجوگیوں کی طرح ہے توہرگز ایك پیسہ نہ دے کہ اسے سوال حرام اوراسے دیناحرام پراعانت کرناہے دینے والا گناہگارہوگااوراگرصاحب حاجت ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع