30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھرتاہے اورہرایك سے سوال کرتاہے کہ مجھے اﷲ کے واسطے روٹی یاکپڑا یاپیسہ دو۔بعض دیتے ہیں اوراکثرنہیں دیتے۔اول اکثروں کے واسطے جونہیں دیتے ہیں کیاحکم ہے؟ ونیز ایك شخص کسی دوسرے شخص سے کہتاہے کہ تواپنی بیٹی کا اﷲ کے واسطے میرے ساتھ نکاح کردے،لیکن وہ نہیں کرتا،اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ ونیز ایك شخص کسی صاحب ریاست وامارت سے کہتاہے کہ ایك ہزارروپیہ مجھے اﷲ کے واسطے دے دے مگروہ نہیں دیتا اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بعض سائل ان الفاظ میں سوال کرتے ہیں کہ خداو رسول کے واسطے مجھے کچھ دو،یاکوئی شخص کسی سے کہہ بیٹھے کہ خداورسول کے واسطے مجھے معاف کرو، ان پرہرشخص کے واسطے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے؟ بالتفصیل جواب عنایت ہو۔یہ سوالات خالصًا لوجہ اﷲ ہیں اس رو رعایت کسی کی نہ پائی جائے،جو شرع شریف کا حکم ہو وہ بیان فرمائیے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ملعون من سأل بوجہ اﷲ وملعون من سئل بوجہ اﷲ ثم منع سائلہ مالم یسأل ھجرا،رواہ الطبرانی[1] فی المعجم الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
ملعون ہے جواﷲ کاواسطہ دے کرکچھ مانگے اورملعون ہے جس سے خداکاواسطہ دے کرمانگاجائے اس سائل کو نہ دے جبکہ اس نے کوئی بیجاسوال نہ کیاہو(اس کوطبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
من سأل باﷲ فاعطی کتب لہ سبعون حسنۃ،رواہ البیھقی فی شعب الایمان [2]عن |
جس سے خداکاواسطہ دے کرکچھ مانگاجائے اور وہ دے دے تو اس کے لئے سترنیکیاں لکھی جائیں(اس کوبیہقی نے شعب الایمان |
[1] مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادعیۃ باب السؤال بوجہ اﷲ الکریم دارالکتاب بیروت ۱۰ /۱۵۳،الترغیب والترھیب السائل ان یسأل بوجہ اﷲ حدیث ۱ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۰۱،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی حدیث ۱۶۷۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۰۲
[2] کنزالعمال بحوالہ ھب عن ابن عمر حدیث ۱۶۰۷۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۶۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع