30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ یہ ناپاك نہیں اوربقدرسکر مطلقًا حرام ہیں یونہی بقصد لہو وفساد بھی مطلقًا حرام اگرچہ بقدرسکر نہ ہو،ورنہ مقدار،قلیل بغرض صحیح مثل دواوغیرہ بے تشبّہ فاسقین حلال ہے،تودرمختارکی اس عبارت کومہوہ کی شراب سے کوئی تعلق نہیں،درمختارمیں ہے:
|
حرمھا محمد مطلقًا قلیلھا وکثیرھا وبہ یفتی وھو نجس ایضا ولوسکرمنھا،المختار فی زماننا انہ یحدوبہ یفی اما عند قصد التلھی فحرام اجماعا [1] اھ ملتقطا۔ |
امام محمد نے اس کو مطلقًا حرام قراردیاہے چاہے قلیل ہو یا کثیر،اوراسی پرفتوٰی ہے،اوروہ نجس بھی ہے،اگراس سے نشہ آئے توہمارے زمانے میں مختار یہ ہے کہ اس پرحد جاری کی جائے گی اسی پرفتوٰی ہے اورلہوولعب کے ارادے سے پینا بالاجماع حرام ہے اھ ملتقطا(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
والحاصل انہ لایلزم من حرمۃ الکثیر المسکر حرمۃ قلیلہ ولانجاستہ مطلقًا الا فی المعائعات لمعنی خاص بھا واما الجامدات فلا یحرم منھا الاالکثیر المسکر ولایلزم من حرمتہ نجاستہ[2]الخ۔ |
خلاصہ یہ ہے کہ کثیر نشہ آور کی حرمت سے اس کے قلیل کی حرمت ونجاست لازم نہیں آتی سوائے مائعات کے اس معنی کی وجہ سے جو ان کے ساتھ خاص ہے۔لیکن جامد اشیاء میں سے صرف زیادہ مقدار جوکہ نشہ آور ہے وہی حرام ہے۔اور اس کے حرام ہونے سے اس کانجس ہونالازم نہیں آتا الخ(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
المحرم شرعا لایجوز الاتنفاع بہ للتداوی[3]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
جوچیزشرعًا حرام ہے اس سے علاج معالجہ کے لئے نفع حاصل کرنا جائزنہیں۔(ت)واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۳۱: ۴/صفرمظفر۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں،حرمت بنگ مثل حرمت شراب کے ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع