30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اخبرنا احمدبن خالد عن معن ثنا معویۃ بن صالح عن یحیٰی بن سعید[1]،احمد بغدادی ثقۃ، معن القزاز ویحیی المدنی کلاھما ثقۃ ثبت من رجال الستۃ،ومعویۃ صدوق من رجال الخمسۃ،و عن الحسن البصری بالطریق عن بشیر بن المھاجر مختلف فیہ وثقہ ابن معین وغیرہ وقال النسائی لیس بہ بأس واخرج لہ مسلم والاربعۃ، وقال ابو حاتم لایحتاج بہ[2] قلت وقول احمد منکر الحدیث ربما لایکون للحرج کما بیناہ فی غیرھٰذا الکتاب فاذن حدیثہ فی عدادالحسن،وعن عمر بن عبد العزیز بالطریق عن عبد الملك بن طفیل الجزری مقبول[3]،وعن ابی عبیدۃ وعن معاذ بن جبل وقد علق عنہما البخاری جازما،وعن ابی طلحۃ اسند عن ثلثتھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم ابوبکر وغیرہ والسند کلہ من جلۃ ثقات رجال الستۃ عن خالد بن الولید۔ |
کہاہمیں احمدبن خالد نے معن سے خبردی اس نے کہا ہمیں معاویہ بن صالح نے یحیٰی بن سعید سے حدیث بیان کی،احمد بغدادی ثقہ ہے۔معن القزاز اور یحیٰی مدنی دونوں ثقہ،ثبت اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔حسن بصری سے اسی طریق کے ساتھ بشیربن مہاجر سے مروی ہے جس میں اختلاف کیاگیا۔ابن معین وغیرہ نے اسے ثقہ قراردیا۔ نسائی نے کہااس میں کوئی خرابی نہیں۔مسلم اوراصحاب سنن اربعہ نے اس کے لئے تخریج کی۔اورابوحاتم نے کہاکہ وہ قابل استدلال نہیں۔قلت(میں کہتاہوں)امام احمد کاقول"منکر الحدیث"بسااوقات حرج کے لئے نہیں ہوتا جیساکہ ہم نے اس کتاب کے غیرمیں بیان کیاہے،چنانچہ اس کی حدیث کا شمارحَسَن میں ہوگا۔اورعمربن عبدالعزیز سے اسی طریق کے ساتھ عبدالملك بن طفیل جزری سے روایت ہے جوکہ مقبول ہے۔ابوعبیدہ اورمعاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے امام بخاری نے بطورجزم تعلیق بیان کی،اورابوطلحہ سے۔ابوبکر وغیرہ نے ان تینوں سے مسندًا حدیث بیان کی۔تمام سند کے راوی برگزیدہ،ثقہ اورصحاح ستّہ کے رجال میں سے ہیں، اورخالد بن ولید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے۔(ت) (رسالہ الفقہ التسجیلی ختم ہوا) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع