30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حبیب ثقۃ امام جلیل من رجال الستۃ وقد سمع ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم قالہ البخاری[1] قلت وھو من اقران نافع لیس بین موتھما الا سنۃ اوسنتان فلودلس لامکنہ ان یقول عن ابن عمرلکن اوضح وبین فرحمہ اﷲ تعالٰی،وحدیثہ حدثنا ابن ابی داؤد ثنا ابوصالح ثنی اللیث ثنا عقیل عن ابن شھاب اخبرنی معاذ بن عبدالرحمٰن بن عثمٰن اللیثی عــــــہ ان اباہ عبدالرحمٰن بن عثمان قال صحبت عمر[2] الحدیث۔ابن ابی داؤد ھو ابراھیم ثقۃ صح لہ الطحاوی فی رفع الیدین،وعبد الرحمٰن بن عثمان صحابی،والبقیۃ کلھم ثقات، |
حبیب ثقہ،امام جلیل اورصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے۔اس نے ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما اور ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے حدیث سنی ہے یہ امام بخاری نے کہاہے۔ قلت(میں کہتاہوں)وہ نافع کاہمعصر ہے ان دونوں کی موت کے درمیان ایك یادو سال کافرق ہے،اگروہ تدلیس کرتاتو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ یوں کہتاعن ابن عمر،لیکن اس نے تدلیس نہیں کی،بلکہ وضاحت فرمائی،اﷲ تعالٰی اس پررحم فرمائے۔امام طحاوی کی حدیث ہے کہ ہمیں ابوداؤد نے،انہیں ابوصالح نے،اس کولیث نے،اس کو عقیل نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ابن شہاب نے کہاکہ مجھے معاذ بن عبدالرحمن بن عثمان لیثی نے خبردی کہ اس کے باپ عبد الرحمن بن عثمان نے کہامیں نے حضرت عمررضی اﷲتعالٰی عنہ کی صحبت پائی(الحدیث)۔ابن ابی داؤد وہ ابراہیم ہے جوکہ ثقہ ہے۔امام طحاوی نے رفع یدین کے بارے میں اس کی حدیث کوصحیح قراردیا۔عبدالرحمن بن عثمان صحابی ہیں۔اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں، |
|
عــــــہ:وقع فی نسخۃ طبع اللیثی وانما ھوالتیمی کما فی الاصابۃ والتقریب ۱۲منہ |
عــــــہ:مطبوعہ نسخہ میں اللیثی ہے جبکہ یہ تیمی ہے جیساکہ اصابہ اور تقریب میں ہے ۱۲منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع