30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم ننقع فیہ الزبیب ثلثاثم نصفیہ ثم ندعہ حتی یبلغ فنشربہ قال یکرہ[1] اھ فزعم ان فی ھٰذین خلاف ماثبت عن ابراھیم من تحلیل القلیل۔ اقول:ولامتمسك لہ فی شیئ منھما فان معنی الاول علی مانری واﷲ تعالٰی اعلم ان من استخفہ الشیطان فی شراب فلم یصبر علٰی قلیلہ حتی اکثر فاسکر لا ینبغی لہ ان یعود فیہ کیلا یستجرہ العدو اخری، فیکون معناہ علی وزان قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایلدغ المؤمن من جحر مرتین[2] او یکون المعنی لایعود الٰی ما اسکر فقد علمہ بالتجربۃ وذٰلك ان من ظن فی شراب انہ لایسکر منہ ثلث کؤس مثلا فشرب فسکر لم یحل لہ |
ہیں پھرتین دنوں تك اس میں کشمش بھگو دیتے ہیں پھر اس کوصاف کرکے رکھ چھوڑے ہیں یہاں تك کہ وہ تیزی کی حد تك پہنچ جاتا ہے پھر اس کوپی لیتے ہیں توابراہیم نے کہایہ مکروہ ہے الخ ابوعبدالرحمن نے گمان کیاان دونوں میں اس کے خلاف ہے جوقلیل مقدارکے حلال ہونے سے متعلق ابراہیم سے ثابت ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ان دونوں روایتوں میں ابوعبدالرحمن کے لئے ستدلال کی کوئی گنجائش نہیں،اس لئے کہ پہلی کامعنی جیساکہ ہم سمجھے ہیں اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے یہ ہے کہ بیشك جس کی نظرمیں شیطان نے شراب کوہلکاکردیااس نے قلیل پرصبرنہیں کیایہاں تك کہ زیادہ پی کرمست ہوگیا تو اس کو دوارہ شراب کی طرف نہیں لوٹنا چاہئے تاکہ دشمن پھر اس کو نہ کھینچ لے۔چنانچہ اس کا معنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرح ہوگیاکہ مومن ایك سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈساجاتا، یا اس کامعنی یہ ہے کہ جس شراب کانشہ آورہونا اس کوتجرہ معلوم ہوگیا اس کی طرف عود نہ کرے۔اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کاگمان تھا اس شراب کے تین گلاس مجھے نشہ نہیں دیں گے اس نے تین گلاس پی لئے تو اس کونشہ آگیا اب ہمیشہ کے لئے اس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع