30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلاباس بذٰلك فاذا اسرف فی النفقۃ لم یصلح لہ ذٰلك ولاینبغی وکذٰلك النبیذ لابأس ان یشربہ علی طعامہ ولاخیر فی السکر منہ لانہ اسراف واظھر من ذٰلك ان الضمان یضاف الی واضع المنّ الاخیر فی السفینۃ وان لم یحصل الغرق بدون ماتقدم من الامناء وھذا لانہ لایوجد التلف حکما بما تقدم من الامناء وانما وجد ذٰلك بفعل فاعل مختار فاضیف الغرق لولی المن الاخیر فکذاھنا اضیف السکر الی القدح الاخیر الذی یحصل بہ السکر حقیقۃ لاما تقدم من الاقداح[1] اھ۔ثم ان البیھقی فی المعرفۃ اراد الرد علی حدیث الحجاج بوجہ آخر فذکر مارواہ ابن المبارك عن الحسن بن عمروالفقیمی عن فضیل بن عمروعن ابراھیم قال کانوا یقولون اذا سکرلم یحل لہ ان یعود فیہ ابدا[2]، |
اپنے اہل وعیال پرخرچ کرتاہے جس میں کوئی حرج نہیں مگر جب وہ خرچ میں زیادتی کرے تو اس کے لئے یہ درست نہیں اوراسے ایسانہیں کرناچاہئے۔اسی طرح کھانے کے اوپرنبیذ پینے میں کوئی حرج نہیں مگراس سے نشہ میں کوئی بھلائی نہیں کیونکہ یہ اسراف ہے،اوراس میں زیادہ ظاہربات یہ ہے کہ ضمان اس شخص کی طرف منسوب ہوتاہے جس نے کشتی میں آخری مَن رکھااگرچہ اس سے پہلے رکھے جانے والے مَنوں کے بغیر کشتی کاغرق ہونامتحقق نہیں ہوا۔اوریہ اس لئے ہے کہ پہلے والے مَنوں سے حکمی طورپرتلف نہیں پایاگیاتووہ فاعل مختارکے فعل سے پایاگیا لہٰذا غرق کی نسبت آخری مَن والے کی طرف کی جائے گی۔یوں ہی یہاں نشہ کی اضافت آخری پیالے کی طرف کی جائے گی جس سے حقیقتًا نشہ حاصل ہوانہ کہ پہلے والے پیالوں کی طرف الخ۔پھربیہقی نے المعرفہ میں حدیث حجاج پرایك اوروجہ سے رَدکرناچاہا تو ذکرفرمایا جس کوابن مبارك نے حسن بن عمروفقیمی سے،اس نے فضیل بن عمروسے اور اس نے ابراہیم سے روایت کیاابراہیم نے کہا وہ کہتے تھے کہ جب کسی کونشہ آجائے تو اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ کبھی بھی اس نشہ والی نبیذ کی طرف عود کرے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع