30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذٰلك جنس الماء یروی الحیوان علی ھذا الحد فکذٰلك النبیذ [1]۔اقول:نعم وقع التحریم علی الجنس مقیدا بصفۃ الاسکار فاذا اسکر حرم والا لاوانما انشدك اﷲ والانصاف اذا قیل لك انھاك عن کل طعام اشبع ھل یفھم منہ النھی عن الاکل مطلقًا ولولقمۃ اولقیمۃ اصغر ماتکون،ماھٰذہ الامکابرۃ الاتری ان الاجماع ماض علی تحریم کل ضار کالسموم والطین وغیرذٰلك ثم لم ینطلق ھٰذالحکم الا الٰی قدریضرك ایاك لامایضرولو ذبابا اونملۃ،وقد اخرج احمد وابوداؤد وعن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن کل مسکر ومفتر[2]،و معلوم ان من الادویۃ ما اذااکثر منہ اورث التفتیر والتحذیر ثم لم یرجع التحذیر الا الی ذٰلك القدر الکثیر ولو کان الامر کما زعمت لوجب القول بحرمۃ المسك و |
ہے اسی طرح پانی کی جنس عمل کرتی ہے اوریہی حال نبیذکا ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ہاں تحریم جنس پرواقع ہے درانحالیکہ وہ نشہ آورہونے کی صفت سے مقید ہے۔لہٰذا جب نشہ دے توحرام ہے ورنہ نہیں۔میں تجھے اﷲ تعالٰی کی قسم دے کر انصاف کامطالبہ کرتاہوں کہ جب تجھے کہاجائے کہ میں تجھے ہرایسے طعام سے منع کرتاہوں جوسیرکردے توکیا اس سے مطلق طعام کی ممانعت سمجھی جائے گی اگرچہ ایك لقمہ کی مقدار یا اس سے بھی کمترہو؟ یہ تومحض انکارحق ہے،کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہرنقصان دہ چیز کی حرمت پراجماع جاری ہے جیسے زہراورکیچڑوغیرہ،پھریہ حکم نہیں جاری ہوتا مگراتنی مقدار پرجوتجھے نقصان پہنچائے نہ مطلق نقصان پہنچانے والی شیئ پراگرچہ وہ مکھی یاچیونٹی کونقصان پہنچائے،امام احمد وابو داؤد نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورعقل میں خلل ڈالنے والی چیزسے منع فرمایا۔یہ بات معلوم ہے کہ بعض دوائیوں کی زیادہ مقدارعقل میں خلل ڈالتی ہے جس سے پرہیز کرنالازمی ہے۔پھر یہ پرہیزاورممانعت صرف اسی مقدار کثیر کی طرف لوٹی ہے۔اگرمعاملہ ایسے ہوتاجیسے تونے گمان کیا ہے توکستوری اوراس جیسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع