30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صاحبھا دون ماتقدم من الشراب ام اسکرت باجتماعھا مع ماتقدم واخذت کل شربت بحظھا من الاسکار فان قالوا انما احدث لہ السکر الشربۃ الآخرۃ التی وجد خبل العقل عقبھا قیل لھم وھل ھٰذہ التی احدثت لہ ذالك الا کبعض ماتقدم من الشربات قبلھا فی انھا لو انفردت دون ماقبلھا کانت غیرمسکرۃ وحدھا،وانھا انما اسکرت باجتماعھا واجتماع عملھا فحدث عن جمیعھا السکر[1] اھ۔فان التقریر بحذا فیرہ جار فی الحبۃ العاشرۃ من المسك ونظرائہ والوھم انما نشاء من عدم الفرق بین الجزء الاخیر وبین سائر العلل الناقصۃ المقدمۃ علیہ وکذا استبان بحمداﷲ انخساف مازوق بہ الشوکانی تحت حدیث"کل شراب اسکر فھو حرام" بقولہ ان الشراب اسم جنس فیقتضی ان یرجع التحریم الی الجنس کلہ کمایقال ھذا الطعام مشبع، الماء مُروٍ یرید بہ الجنس و کل جزء منہ یفعل ذٰلك الفعل،فاللقمۃ تشبع العصفور وماھو اکبر منھا یشبع ماھو اکبر من العصفور |
نشہ دیا یاماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکر نشہ دیا اور ہرگھونٹ کانشہ دینے حصہ ہے،اگر وہ کہیں کہ اس کونشہ آخری گھونٹ نے دیا ہے جس کے بعد اس کی عقل میں خلل واقع ہوا تو ان کو کہاجائے گاکہ یہ آخری پہلے والے گھونٹوں کی طرح ہی ہے اس بات میں کہ اگر یہ ان سے منفردہوتا تو اکیلے نشہ نہ دیتا۔اس نے ماقبل والے گھونٹوں کے ساتھ مجتمع ہوکرنشہ دیاہے،لہٰذا ثابت ہوگیاکہ نشہ ان تمام گھونٹوں کے مجموعہ سے پیداہواہے اھ،بیشك یہی تقریر تمام شقوں کے ساتھ کستوری اور اس جیسی دیگراشیاء میں جاری ہوتی ہے۔ وہم صرف اس لئے پیداہواکہ آخری جزء اوراس سے پہلے والی باقی ناقص علتوں میں فرق نہیں کیاگیا۔یونہی الحمدﷲ حدیث "ہرشراب جونشہ دے وہ حرام ہے"کے تحت شوکانی کایہ کلام بھی زنگ آلود ہوگیاجس کو اس نے یوں منقش کیاکہ شراب اسم جنس ہے جو اس بات کاتقاضاکرتاہے کہ تحریم تمام جنس کی طرف لوٹے جیساکہ کہاجاتاہے طعام سیرکرنے والا ہے اور پانی سیرب کرنے والا ہے،یہاں طعام اور پانی سے مراد جنس ہے اورجنس کی ہرجزء جنس والا عمل کرتی ہے،چنانچہ طعام کا ایك لقمہ چڑیا کا پیٹ بھردیتاہے اوراس سے زیادہ مقدار چڑیا سے بڑے جانور کاپیٹ بھردیتی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع