30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الا اذا بلغ عشر حبات مثلًا فاذا تناول رجل حبۃ فھل تناول الحرام فان قلت نعم فقد اعظمت القول وان قلت لا قلنا فان تناول اخری حتی بلغ تسعا فلابد ان تقول فی الکل بالحل قلنا فاخبرنا اذا تناول العاشرۃ فسکر فان قلت الآن ایضا حل فقداعظمت القول وان قلت حرم فقد قضیت علی نفسك ولا شك ان السکر انما اتی للمجموع لکن الحرمۃ انما ھی للاکلۃ الاخیرۃ دون الاولی والتی تلیھا ای تسع و من عرف ان المعلول و ھی الحرمۃ المعلولۃ بالکسر المعلول بالعشر انما یتحق عند تحقق الجزء الاخیرمن اجزاء العلۃ عرف المرام ولم تذھب بہ الاوھام۔وبھٰذا التقریر وﷲ الحمد تبین انزھاق ما لمع بہ الشوکانی فی نیل الاوطار ناقلا عن الطبری ما نصہ یقال لھم(ای لائمتنارضی اﷲ تعالٰی عنھم) اخبرونا عن الشربۃ التی یعقبھا السکر اھی التی اسکرت |
مثلًا اگرنشہ نہ دیں جب تك وہ دس رتی کے برابر نہ ہو جائیں۔جب کسی شخص نے ان میں سے ایك رتی کے برابر کھایا تو کیااس نے حرام کھایا،اگرتوکہے کہ ہاتوتونے بہت بڑی بات کہہ دی اوراگرکہے کہ نہیں توہم کہیں گے کہ اگردوسری رتی کھائی توکیاحکم ہے یہاں تك کہ نوتك پہنچ جائے۔تیرے لئے اس سے چھٹکارا نہیں کہ توان سب کے حلال ہونے کاقول کرے۔پھرکہیں گے کہ بتاؤاگروہ دسویں رتی کھائے اورنشہ آجائے توا ب کیاحکم ہے۔اگرتوکہے کہ اب بھی حلال ہے تو تم نے بہت بڑی بات کہہ دی۔اوراگرکہے کہ حرام ہے توخود اپنے خلاف تونے فیصلہ دے دیا۔اس میں کوئی شك نہیں نشہ اس مجموعے سے آیا ہے لیکن حرمت آخری رتی کوکھانے پرہے نہ کہ پہلی اوراس کے بعد والیوں پرجوکہ نو ہیں۔جس نے یہ سمجھاکہ معلول جوکہ وہ حرتم ہے جس کی علت نشہ ہے وہ معلول پوری دس رتیاں ہیں مگراس کاتحقق علت کی آخرجزء کے تحقق کے وقت ہواتو اس نے مقصدکوپہچان لیا۔ اس کو وہم نہ بہکائے گا۔الحمدﷲ اس تقریر سے شوکانی کانیل الاوطار میں حد سے تجاوزکرناظاہرہوگیا دراں حالیکہ وہ طبری سے نقل کرنے والا ہے جس کی اس نے تصریح کی کہ ان (ہمارے ائمہ)کوکہاجائے گاکہ اس گھونٹ کے بارے میں بتاؤ جس کے بعد نشہ آیاہے کہ کیااس نے ماقبل والے گھونٹوں کے بغیر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع