30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن حجاج ابن ارطاۃ وابن اسحٰق فانھما حافظان [1]وقد اثنی علیہ غیر واحد منھم الثوری وابوحاتم بیدانہ کثیرالتدلیس قال الذھبی اکثر مانقم علیہ التدلیس [2]،وقال ابوحاتم یدلس عن ضعفاء[3] فالحدیث وان لم یصح عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما قالہ عبداﷲ لکنہ قدصح عن ابراھیم کما قدمناہ عن مسند الامام اعظم عن حماد عنہ، فماکان ینبغی لابی عبدالرحمٰن ان یقول لیس کما یقول ابوعون،لانفھم بتحریمھم اٰخرالشربۃ و تحلیلھم ما تقدمھا اماما تعلل بہ قائلا لاخلاف بین العلم ان المسکر بکلیتہ لایحدث علی الشربۃ الاٰخر دون الاولٰی والثانیۃ بعدھا۔اقول: ارایت اذا کان لایسکر المسك والعنبر والزعفران واشباھھا |
کیونکہ وہ دونوں حافظ ہیں۔نیزمتعدد ائمہ نے اس کی تعریف کی جن میں ثوری اورابوحاتم شامل ہیں سوائے اس کے کہ وہ تدلیس میں کثرت کرتا ہے۔ذہبی نے کہااکثر اس پرجس شیئ میں ملامت کی جاتی ہے و تدلیس ہے۔ابوحاتم نے کہاکوہ تدلیس کرتاہے اورضعفاء میں سے ہے۔تویہ حدیث اگرچہ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صحیح نہیں جیساکہ عبداﷲ نے کہامگر ابراہیم سے صحیح ہے جیساکہ ہم مسندامام اعظم کے حوالے سے ذکر کرچکے ہیں کہ حماد نے ابراہیم سے روایت کی۔لہٰذا ابوعبدالرحمن کوایسانہیں کہناچاہئے تھا کہ ابن عون کا کہنادرست نہیں کیونکہ ان کا آخری گھونٹ کوحرام اور اس سے پہلے والے گھونٹ کوحلال قراردینا ہمیں سمجھ نہیں آتا لیکن ابو عبدالرحمن کاوجہ بیان کرتے ہوئے یہ کہناکہ مسکرکے آخری گھونٹ پر اثرانداز ہونا اورپہلے اور دوسرے پرنہ ہونا اورپہلے اوردوسرے پرنہ ہونا علمی اعتبارسے یہ فرق درست نہیں ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)تیراکیاخیال ہے کہ کستوری، عنبر،زعفران اوران جیسی دیگراشیاء |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع