30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اسکرتك ثم اسند عن عمار بن مطر ثنا شریك عن ابی حمزۃ عن ابراھیم قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل مسکر حرام قال ھی الشربۃ التی اسکرتك قال ھذا اصح من الذی قبلہ ولم یسندہ غیر الحجاج واختلف عنہ وعمار بن مطر ضعیف وحجاج ضعیف وانما ھو من قول ابراھیم النخعی ثم اخرج عن ابن المبارك انہ ذکر عندہ حدیث ابن مسعود کل مسکر حرام ھی الشربۃ التی تسکرك فقال ھذا حدیث باطل[1] اھ وتبعہ المحقق فی الفتح،اقول:سند الطحاوی حدثنا ابن ابی داؤد ثنا نعیم وغیرہ انا حجاج عن حماد[2] الخ ولیس فیہ عمار کما تری و الحجاج ھو ابن ارطاۃ من رجال مسلم والاربعۃ وھو و ان کان من شیوخ شعبۃ وشعبۃ من قد علم فی شدۃ ورعہ واحتیاطہ وقد کان یقول اکتبوا |
نشہ دیا۔پھردارقطنی نے اس کا اسناد بیان کیاعماربن مطرسے، اس نے شریك سے،اس نے ابوحمزہ سے،اس نے ابراہیم سے کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاقول کہ ہرنشہ آورحرام ہے،فرمایاوہ آخری گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا ۔دارقطنی نے کہایہ پہلی سند سے زیادہ صحیح ہے،سوائے حجاج کہ کسی نے اس کا اسناد بیان نہیں کیا،اوراس سے روایت میں اختلاف ہے۔عماربن مطر ضعیف ہے،یہ ابراہیم نخعی کاقول ہے۔پھرابن المبارك سے اس کی تخریج کی کہ اس کے پاس حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ"ہرمسکرحرام ہے" سے مراد وہ گھونٹ ہے جس نے تجھے نشہ دیا،تو ابن المبارك نے کہایہ حدیث باطل ہے اھ۔اور اس کی پیروی کی محقق نے فتح میں۔اقول:(میں کہتاہوں)طحاوی کی سندیہ ہے کہ ہمیں ابن داؤد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاکہ ہمیں نعیم وغیرہ نے حدیث بیان کی،ا نہوں نے کہاہمیں حجاج نے حماد سے خبردی الخ اس میں جیساکہ تونے دیکھاعمارنہیں ہے اورحجاج وہ ابن ارطاۃ ہے جو مسلم اوراصحاب سنن اربعہ کے رجال میں سے ہے۔وہ اگرچہ شعبہ کے شیوخ میں سے ہے۔اورشعبہ کے تقوٰی واحتیاط میں سختی جانی ہوئی ہے کہاکرتے تھے حجاج بن ارطاۃ اورابن اسحاق سے لکھ لیاکرو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع