30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احب الینا منہ وقال مرۃ ثقۃ الا انہ یغلط ولاتتیقن وقال الدار قُطنی لیس بالقوی فیما ینفرد بہ[1] وقال ابواحمد الحاکم لیس بالمتین[2] وکذٰلك قلت انت مرۃ یا اباعبدالرحمٰن انہ لیس بالقوی وقال الازدی کان صدوقا الا انہ سیئ الحفظ کثیرالوھم مضطرب الحدیث کما فی تھذیب التھذیب[3] علی عــــــہ۱ روایۃ ابن شبرمۃ ذاك الامام الشھیر الثقۃ الفقیہ المحتج بہ فی صحیح مسلم وثقہ احمد وابوحاتم فضلا عن حدیث الامام الاجل الثقۃ الثبت مِسْعَر لکانوا قاموا باشد الانکار ثم الرجل عــــــہ۲ مُدَلِّس قال عبدالحق الاشبیلی کان یدلس وقال ابن القطان کان مشھورا بالتدلیس[4] وقد عنعن فمالکم تنقمون عنعنۃ ھُشَیم ذاك الجبل الشامخ ثم تعودون تحتجون بعنعنۃ شریك وامّا شعبۃ فقد تفرد بہ من بین الجماعۃ ونقص |
غیرمجھے اس کی بنسبت زیادہ پسند کرتاہے۔مرۃ نے کہاکہ وہ ثقہ ہے مگر وہ غلطی کرتاہے اورثابت نہیں رہتا۔دارقطنی نے کہاکہ شریك ان حدیثوں میں قوی نہیں جن میں وہ منفرد ہے۔ابواحمد حاکم نے کہاکہ وہ متین نہیں۔اوریوں ہی اے عبدالرحمن! ایك بار تونے کہاکہ وہ قوی نہیں ہے۔ازدی نے کہاکہ وہ صدوق تھا مگروہ کمزورحافظے والا،کثیرالوہم اور مضطرب الحدیث تھا،جیساکہ تہذیب التہذیب میں ابن شبرمہ کی روایت پرہے کہ وہ مشہور امام،ثقہ،فقیہ اورمقتدی ہے۔صحیح مسلم میں ہے کہ امام احمدنے اس کو ثقہ قراردیا۔ ابوحاتم نے اس کو امام اجل ثقہ ثبت مِسعر کی حدیث سے افضل قراردیا تولوگوں نے اس کاشدید انکارکیا،پھروہ مدلس شخص ہے،عبدالحق اشبیلی نے کہاکہ وہ تدلیس کرتاتھا۔ابن قطان نے کہاکہ وہ تدلیس میں مشہورتھا۔تحقیق اس نے عنعنہ کے ساتھ روایت کی تمہیں کیاہے کہ تم ہشیم کے عنعنہ کو براسمجھتے ہوجوکہ ایك بلندپہاڑ ہے پھرلوٹ کرشریك کے عنعنہ سے استدلال کرتے ہو مگر شعبہ اس کے ساتھ جماعت میں سے متفرّد ہے،اس سلسلہ میں |
عــــــہ۱: متعلق باقول رحمہ اﷲ ھولاء المحدثین لوانا قدمنا۔ عــــــہ۲ ای شریک۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع