30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تخلل واما ادعاء الرجوع فقال النسائی مما یدل علی صحۃ ھٰذا حدیث السائب فذکر ما اسند مالك عن ابن شھاب عن السائب بن یزید ان عمر بن الخطاب خرج علیھم فقال انی وجدت من فلان ریح شراب فزعم انہ شراب الطلاء وانا سائل عما شرب فان کان مسکرا جلدتہ فجلدہ عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ الحد تامّا [1] اھ ورواہ ایضا الشافعی وعبد الرزاق وابن وھب وابن جریر والطحاوی والبیھقی وتبعہ الزرقانی فی شرح المؤطا فقال تحت حدیث محمود بن لبید المار عن المؤطا کان عمرا جتھد فی تلك المرۃ ثم رجع عنہ فحد ابنہ فی شرب الطلاء کما مر [2]اھ،اقول: رحم اﷲ ابا عبدالرحمٰن کان مذھب امیر المؤمنین |
حلال کردیا،اگروہ نبیذ سخت نہ ہوئی یاسرکہ بن چکی ہوئی تو اس قول کی کیاگنجائش بنتی۔رہارجوع کادعوٰی توامام نسائی نے کہاکہ اس کے صحیح ہونے کی دلیل حدیث سائب ہے،اس کے بعد پھروہ حدیث ذکرفرمائی جس کومالك نے ابن شہاب انہوں نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اﷲ عنہ ان کے ہاس آئے اور فرمایا کہ میں نے فلاں سے شراب کی بو پائی ہے اور گمان کیا کہ وہ شراب طلاء ہےاگر وہ نشہ آور ہوئی تو میں اس کو کوڑے لگاؤں گا پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس پرمکمل حد جاری فرمائی الخ،اور اس کوامام شافعی،عبدالرزاق،ابن وہب،ابن جریر، طحاوی اور بیہقی نے بھی روایت کیا،اورزرقانی نے شرح مؤطا میں اس کی پیروی کرتے ہوئے اس حدیث محمودبن لبید کے تحت فرمایاجوکہ مؤطا کے حوالے سے گزرگئی کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس مرتبہ اس بارے میں اجتہاد فرمایاتھا پھر اس سے رجوع فرمالیا،چنانچہ طلاء کے پینے پرحد جاری فرمائی،جیساکہ گزراالخ۔اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالٰی ابوعبدالرحمن پررحم فرمائے۔امیرالمومنین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع