30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال ابن حبان لایجوز الاحتجاج بہ بحال[1]اھ قلت فانما منع الاحتجاج وھذا اوھاھن فیما اعلم حدیث الحارث عن علی اعلہ فجرحہ بعبدالرحمٰن بن بشر قال مجھول فی الروایۃ و النسب وحدیثہ غیر محفوظ وانما یروی ھذا عن ابن عباس من قولہ [2]اھ وقال الذی لایعرف والخبر منکر[3]اھ امّا الطریق المطول فاوھن واوھی فیہ ابن الفرات کذبہ احمد و ابوبکر بن ابی شیبۃ وقال خ منکرالحدیث[4] ثم مدارہ علی الحارث وفیہ مالایجھل حدیث ابن عباس المذکور اٰخرا،اقول: لعل المحفوظ موقوف ھکذا رواہ الحفاظ عن ابن عباس قولہ کما ستسمع ان شاء اﷲ تعالٰی نعم ان ثبت الرفع بطریق جیّد فلك ان تقول زیادۃ ثقۃ فتقبل و یعضدہ مرسل عبداﷲ بن شداد المار |
کہاکہ کسی حال میں اس سے استدلال جائزنہیں اھ قلت (میں کہتاہوں)اس سے استدلال کومنع کیاگیا اورمیرے علم کے مطابق یہ کمزورعلت ہے وہ حدیث جو حارث نے علی سے لی اس کی تعلیل کی گی اور اس پرجرح کی گئی،عبدالرحمن بن بشرکے سبب سے کہاکہ وہ روایت ونسب میں مجہول ہے اوراس کی حدیث غیرمحفوظ ہے،اوریہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ان کاقول روایت کرتاہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اورحدیث منکرہے الخ اورکہاکہ یہ معروف نہیں اور حدیث منکر ہے الخ رہاطریق طویل وہ انتہائی کمزور اور ضعیف ہے اس میں ابن فرات ہے جس کو امام احمد اورابوبکر بن ابی شیبہ نے جھوٹاکہا۔خ نے کہاکہ منکر الحدیث ہے، پھر اس کامدارحارث پرہے اوراس میں وہ ہے جومجہول نہیں۔ ابن عباس کی دوسری مذکور حدیث،اقول:(میں کہتاہوں) شایدمحفوظ موقوف ہے،یونہی حفاظ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ان کاقول روایت کیاجیساکہ عنقریب ان شاء اﷲ توسنے گا،ہاں اگراس کا مرفوع ہونابطریق جیّد ثابت ہو جائے تویہ کہہ کرثقہ راوی نے زائد بات کی ہے لہٰذامقبول ہے، اور اس کی تائید عبداﷲ بن شداد کی مرسل حدیث کرتی ہے۔ |
[1] العلل المتناھیہ کتاب الاشربہ تحت حدیث ۱۱۲۳ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۲ /۱۸۶
[2] نصب الرایہ کتاب الاشربہ تحت الحدیث التاسع المکتبۃ الاسلامیہ ۴ /۳۰۶
[3] میزان الاعتدال ترجمہ عبدالرحمن بن بشر الغطفانی ۴۸۲۱ دارالمعرفۃ بیرت ۲/ ۵۵۰
[4] تہذیب التہذیب ترجمہ محمد بن الفرات ۶۴۸ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن ۹ /۳۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع